صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 206 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 206

۶۵ - کتاب التفسير / النساء صحیح البخاری جلد ۱۰ ضائع ہو جائے گا۔اسی سیاق کلام میں یہ ارشاد ہے : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَنَمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِأَخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَميده (البقرة: ۲۶۸) یعنی اے ایماندارو ! جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں اور (نیز) اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے (اللہ کی راہ میں حسب توفیق ) خرچ کرو اور ناکارہ چیز (کو) اور جس میں سے تم خرچ ( تو ) کرتے ہو مگر تم خود سوائے اس کے (کہ) اس (کے قبول کرنے) میں چشم پوشی سے کام لو۔اسے ہر گز قبول نہیں کرتے۔(صدقہ کے لئے ) بالا رادہ نہ چنا کرو اور جان لو کہ اللہ (بالکل) بے نیاز ( اور ) بہت ہی حمد کا مستحق ہے۔آیت وَلَسْتُم بِأَخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ- روی شے دینے کا ارادہ تک بھی نہ کرو کیونکہ تم ردی شے ہر گز نہیں لینے والے۔سوال اس کے کہ اس کے قبول کرنے میں ( حیا کی وجہ سے) چشم پوشی سے کام لو۔جس حالت میں اخلاق فاضلہ کے بارے میں قرآن مجید کی یہ اعلیٰ تعلیم اور آنحضرت صلی کم کا واضح ارشاد دوصیت ہو تو ردوھا کے وہ معنی درست ہوں گے جو ان کے مطابق ہوں۔إِن يَدْعُونَ مِن دُونِةٍ إِلا النَّا وَإِنْ يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطئًا فَرِيدًا لَعَنَهُ اللَّهُ وَ قَالَ لَا تَخِذَنَ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (النساء : ۱۱۹،۱۱۸) یعنی وہ اللہ کو چھوڑ کر بے جان چیزوں کے سوا (کسی کو) نہیں پکارتے، بلکہ وہ سرکش شیطان کے سوا ( اور کسی کو نہیں پکارتے۔(اس شیطان کو) جسے اللہ نے ( اپنی جناب سے) دور کر دیا ہے اور (جس نے یہ ) کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ضرور ہی ایک مقررہ حصہ لوں گا۔انتا سے مراد الموات (مردہ اشیاء ) ہیں، جنہیں معبود بنایا گیا ہے۔ان آیات کا سیاق شرک باللہ کی مذمت و ممانعت ہے اور ان کے حوالہ سے توجہ مبذول کروائی ہے کہ باہمی اور بین الا قوامی تعلقات کی استواری میں رضائے الہی مقصود ہو نہ کہ ریا کاری۔وَلَأضِنَّهُمْ وَلَأَمَنِيَنَهُمْ وَلَا مُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِكنَّ اذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَا مُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيرْنَ خَلْقَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَنَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا يَعِدُهُمْ وَيُمَنْيْهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ الا غُرُورًا أُولَبِكَ مَأوَلهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا ( النساء: ۱۲۰تا۱۲۲) ترجمہ: اور انہیں لازما گمراہ کروں گا اور یقیناً (بڑی بڑی) امیدیں بھی دلاؤں گا اور ان سے باصرار یہ خواہش کروں گا کہ وہ چوپاؤں کے کان کاٹیں۔اسی طرح خواہش کروں گا کہ وہ مخلوق خدا میں تبدیلی کریں اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے تو سمجھو کہ) وہ (کھلے) کھلے نقصان میں پڑ گیا۔وہ (شیطان) انہیں وعدے دیتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے اور شیطان اُن سے بجز ظاہر فریب باتوں کے (کسی امر کا ) وعدہ نہیں کرتا۔ان لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہے اور وہ اس سے بھاگنے کی جگہ کہیں نہیں پائیں گے۔ان سے شیطان کی اتباع میں جو انجام کار خسارہ عظیمہ ہوتا ہے اس کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔قِيلًا سے آیت وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللهِ قِبلا کا حوالہ دیا گیا ہے۔اللہ سے بڑھ کر اور کون راست گفتار ہو گا۔