صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 207
۲۰۷ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء صحیح البخاری جلد ۱۰ پوری آیت یہ ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ سَنْدُ خِلْهُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا ابَدًا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَ مَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللهِ قِيلاً (النساء : ۱۲۳) اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک کام کئے ہیں ہم انہیں ضرور ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (اور وہ) ان میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔( یہ ) اللہ کا سچا وعدہ (ہے) اور اللہ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے۔(۵) طبع سے آیت وَ طُبعَ عَلَى قُلُوبِهِمُ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ (التوبة: ۸۷) کی طرف اشارہ ہے۔یہی لفظ سورۃ نساء میں بھی آیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا O (النساء : ۱۵۲) یعنی اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان (کے دلوں) پر مہر کر دی ہے۔اس لئے وہ بالکل ایمان نہیں لاتے۔طَبَعَ الله کے وہی معنی ہیں جو خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ (البقرۃ:۸) کے محولہ آیت میں۔اہل کتاب کی عہد شکنی، ان کے انکار حق اور تمرد کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ مسلمان ان کے انجام بد سے عبرت حاصل کریں اور احکام الہی کا پاس رکھیں۔امام ابن حجر نے یہ باب بلا روایت قائم کرنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ امام مسلم نے آیت معنونہ کے نزول کا بہ یہ نقل کیا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو دو باتوں میں سے ایک بات کا اختیار دیا اور ان سے ایک بالا خانہ میں الگ سکونت اختیار کرنے لگے تو لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے اور چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔حضرت عمرؓ نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے انہیں نفی میں جواب دیا، تو اس تعلق میں یہ آیت نازل ہوئی۔امام بخاری نے بھی واقعہ خفا سے متعلق روایت (نمبر ۲۴۶۸) نقل کی ہے، مگر اس میں یہ حصہ نہیں کہ محولہ بالا آیت اس وجہ سے نازل ہوئی۔اس لئے امام موصوف نے زیر باب وہ روایت عمداً نقل نہیں کی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۲۵) باب ١٦: وَمَنْ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ (النساء: ٩٤) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) جو مومن کو عمد آمار ڈالے گا اس کی سزا جہنم ہوگی ٤٥٩٠ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۴۵۹۰ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔مغیرہ بن نعمان نے ہم سے قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ آيَةٌ بیان کیا، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔وہ اخْتَلَفَ فِيهَا أَهْلُ الْكُوفَةِ فَرَحَلْتُ کہتے تھے: کوفہ والوں نے ایک آیت کے فِيهَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ بارے میں اختلاف کیا تو میں اس آیت سے متعلق ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے پس وہ سمجھ نہیں سکتے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : "اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔“