صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 205
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۰۵ ۶۵ - کتاب التفسير النساء تشريح : وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ: أَذَاعُوا کے معنی أَفَشَوْهُ یعنی افشا کیا، پھیلا دیا، شائع کیا۔ اَذَا عُوا کے یہ معنی ابن منذر نے حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۲۴) اس باب کے تحت کوئی واقعہ مروی نہیں جس پر آیت کی تطبیق ہو۔ مفہوم واضح ہے۔ سنی سنائی خبر کی اشاعت بحالت سلم و امن یا بحالت حرب بعض وقت خطر ناک نتائج پیدا کرتی ہے جس سے روکا گیا ہے۔ آج کل دشمن اقوام پروپیگنڈا کے ذریعہ سے ایک دوسرے کے خلاف خوب کام لیتی ہے اور یہ کسی قوم کی ذہنیت معطل اور معنویات برباد کرنے میں زبردست ہتھیار ہے اور اس کے ذریعہ قوموں کے اخلاق تباہ کر دئے گئے ہیں۔ اسلام نے جھوٹ کی اشاعت تو الگ ایک سچی بات کی اشاعت میں بھی احتیاط سے کام لینے کا ارشاد فرمایا ہے۔ پوری آیت یہ ہے: وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرُ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَ إِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْتُهُ لَا تَبَعْتُمُ الشَّيْطَنَ إِلَّا قَلِيلًا (النساء : ۸۴) اور جب (بھی) ان کے پاس امن (کی) یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو وہ اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے حکام کی طرف لے جاتے تو ان میں سے جو (لوگ) اس (یعنی مقررہ بات کی اصلیت) کو معلوم کر لیا کرتے ہیں۔ اس کی حقیقت) کو پالیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو سوائے چند ایک کے باقی لوگ) شیطان کے پیچھے چل پڑتے۔ يَسْتَنْبِطُونَهَا : يَسْتَخْرِجُونَهَا - یعنی واقعات یا قرائن و شواہد سے صحیح امر کا استنباط کرتے۔ عنوان باب میں بعض آیات کا حوالہ دیا گیا ہے تا آیت کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملے اور وہ یہ ہیں: 1) وَإِذَا حُتِيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (النساء: ۸۷) اور جب تمہیں کوئی دعا دی جائے تو تم اس سے اچھی دعا دو یا کم سے کم) اس کو لوٹا دو۔ اللہ یقیناً ہر ایک امر کا حساب لینے والا ہے۔ امام بخاری اسلام کی اس اعلیٰ تعلیم کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں جس سے باہمی تعلقات استوار ہوں اور ان کے درمیان خوش گواری کی صورت پیدا ہو ، تا تعلقات نہ بگڑیں۔ بلکہ اسلام کا یہ ارشاد ہے کہ دوسروں کے لئے نیک خواہش خواہشات کا اظہار ہوتا رہے۔ تحیت کے معنی دعا بھی کئے گئے ہیں اور یہ لفظ تحائف و ہدایا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور بوقت ملا قار اقات دعائیہ کلمات (السلام علیکم) پر بھی اطلاق پاتا ہے۔ اَوْ رُدُّوهَا کے یہ معنی نہیں کہ اگر بہتر ہدیہ نہ دے تو جو ہدیہ دیا گیا ہے وہ واپس کر دو۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر بکری کا پایہ (گھر) بھی بطور ہدیہ آئے تو وہ بھی بخوشی قبول کیا جائے۔ حقیر سمجھ کر رد نہ کرو۔ بلکہ دُودھا کے معنی ہیں اگر بہتر ہدیہ نہ دے سکو تو کم از کم ویسا تو بھیجو تا عمدہ تعلقات قائم ہوں۔ اس تعلق میں قرآن مجید سے تو یہاں تک ارشاد ہے کہ رڈی شے کا قبول کرنا اخلاق فاضلہ میں سے ہے۔ فرماتا ہے کہ خرچ کر کے احسان نہ جتایا کرو۔ اس سے ایک اچھا عمل