صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 204 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 204

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۰۴ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا (النساء : ۸۹) اور تمہیں کیا ( ہو گیا) ہے (کہ تم) منافقوں کے متعلق دو گروہ ( ہو رہے ) ہو۔ حالانکہ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس کے سبب سے اللہ نے انہیں اوندھا کر دیا ہے۔ کیا جسے اللہ نے ہلاک کر دیا ہے تم اسے راہ پر لاؤ گے ؟ اور جسے اللہ ہلاک کرے تو اس کے لئے ہرگز کوئی رستہ نہ پائے گا۔ از كَسَهُمْ کے معنی ہیں بَدَّدَهُمْ ۔ یعنی ان میں اختلاف و تفرقہ ڈال دیا، انہیں منتشر کر دیا۔ یہ شرح جو عنوان باب میں حضرت ابن عباس سے مروی بتائی گئی ہے، علامہ طبری نے بسند ابن جریج موصولاً نقل کی ہے اور ان سے أَوْقَعَهُمْ بھی مروی ہیں۔ یعنی انہیں فتنہ و ابتلاء میں ڈال دیا۔ اور بسند قتادہ ان سے أَهْلَكَهُمْ بھی منقول ہیں۔ یہ تفسیر از روئے لغت نہیں۔ رکس کا لغوی معنی تو رجوع ہے۔ اَرْكَسَهُمْ - أَرْجَعَهُمْ ۔ یعنی انہیں ان کے پہلے فیصلہ کی طرف لوٹا دیا۔ بلکہ مذکورہ تشریح بطور دلالت لزومی ہے۔ یعنی رائے کے اختلاف اور تفرقے کا نتیجہ ہلاکت ہے۔ فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۲۳) ارگس کے لغوی معنی اوندھا کیا بھی ہیں۔ (اقرب الموارد - رکس) فِئَةٌ کے معنی ہیں جماعت، گروہ۔ یہ شرح بھی حضرت ابن عباس سے ہی مروی ہے۔ وَقَالَ إِنَّهَا طَيِّبَةُ : بی مضمون ایک اور روایت میں بھی ہے۔ دیکھئے کتاب فضائل المدینہ ، باب ۳ روایت نمبر ۱۸۷۲۔ بَاب وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ} أَذَاعُوا بِهِ (النساء : ٨٤) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو وہ اس کو مشہور کر دیتے ہیں أَيْ أَفْشَوْهُ۔ يَسْتَنْبِطُونَهُ (النساء : ٨٤) (أَذَاعُوا بِہ کے معنی ہیں اس کو پھیلا دیتے يَسْتَخْرِجُونَهُ۔ حَسِيبًا (النساء: ۸۷) ہیں۔ اس آیت میں جو) يَسْتَنْبِطُونَ (ہے، كَافِيًا۔ إِلَّا الثَّا (النساء : ۱۱۸) يَعْنِي (اس) کے معنی ہیں وہ اسے نکال لیتے ہیں۔ حَسِيبًا الْمَوَاتَ حَجَرًا أَوْ مَدَرًا وَمَا أَشْبَهَهُ۔ کے معنی ہیں کافی اور إِلا إنانا کے معنی ہیں بے جان چیزیں، جیسے پتھر ، مٹی اور ان جیسی دوسری چیزیں۔ مريدا (النساء: ۱۱۸) مُتَمَرِّدًا۔ فَلَيُبَتِكُن (النساء : ١٢٠) بَيَّكَهُ مَرِيدًا کے معنی ہیں سر قَطَّعَهُ قِيلًا (النساء : ۱۲۳) وَقَوْلًا فرمایا، تو یہ بنگہ سے ہے، یعنی اس کو کاٹ ڈالا۔ : سرکش۔ اور فلیبین جو قبلا اور قولا کے ایک ہی معنی ہیں۔ طبع کے معنی وَاحِدٌ۔ طبع (التوبة: ۸۷) خُتِمَ۔ ہیں مہر کر دی گئی۔ ا یہ عنوان باب فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۳۲۳)