صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 203 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 203

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۰۳ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء باب ١٥ : فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنْفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ اَرْكَسَهُمُ (النساء : ۸۹) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) تمہیں کیا ہے کہ منافقوں کے متعلق دو گروہ ہو گئے ہو حالا نکہ اللہ نے ان کو پراگندہ کر دیا ہے قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَّدَهُمْ فِئَةٌ جَمَاعَةٌ۔حضرت ابن عباس نے کہا: ( از گسھم کے معنی ہیں) ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔فقہ کے معنی جماعت۔٤٥٨٩: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۵۸۹ محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ ہم سے غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَن قَالا اور عبد الرحمن نے بیان کیا۔ان دونوں نے کہا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عدی (بن ثابت ) بن يَزِيدَ عَنْ زَيْدِ بْن ثَابِتٍ رَضِيَ الله سے ، عدی نے عبد اللہ بن یزید ( خطمی) سے، عَنْهُ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنْفِقِينَ فِئَتَيْنِ عبداللہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ (النساء: ۸۹) رَجَعَ نَاسٌ مِّنْ أَصْحَابِ سے روایت کی کہ آیت فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنْفِقِينَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُحْدٍ فئتين ا سے متعلق واقعہ یوں ہے: نبی صلی اللہ فئَتَيْنِ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ احد سے لوٹ وَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ فَرِيقٌ گئے تھے اور لوگ ان کی نسبت دو گروہ ہو گئے۔يَقُولُ اقْتُلْهُمْ وَفَرِيقٌ يَقُولُ لَا ایک گروہ کہتا تھا: ان کو مارڈالیں اور ایک گروہ فَنَزَلَتْ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنْفِقِينَ فِئَتَيْنِ کہتا تھا کہ نہیں۔تو پھر یہ آیت نازل ہوئی: یعنی وَقَالَ إِنَّهَا طَيِّبَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گر وہ ہو گئے ہو۔آپ نے اس وقت فرمایا: مدینہ طیبہ ہے۔میل کچیل کو اس طرح نکال پھینکتا ہے تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّة۔أطرافة: ١٨٨٤، ٤٠٥٠۔↓ جس طرح کہ آگ چاندی کی میل کچیل۔تشريح : فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنْفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ أَرْسَهُمْ : پوری آیت یہ ہے: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنْفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا اَتْرِيدُونَ أَنْ تَهُدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” پس تمہیں کیا ہوا ہے کہ منافقوں کے بارہ میں دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہو۔“