صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 202 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 202

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۰۲ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء امام ابن حجر نے ان کی والدہ کا نام حضرت ام فضل لبابہ بنت الحارث الہلالیہ بتایا ہے ، جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ (۳۲۲) روایات کے بعد بعض آیات کے حوالے دے کر الْمُسْتَضْعَفِينَ کے مفہوم کی وسعت اور ظلم سے نجات پانے کی صورتیں بیان کی ہیں۔ پہلا حوالہ حضرت ابن عباس کی شرح حضرت کا ہے جو ابن ابی حاتم نے نقل کی ہے۔ پوری آیت یہ ہے : الا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمُ مِيثَاقَ أَوْ جَاءُ وَكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَنْ يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ (النساء :(۹۱) مگر ( ان لوگوں سے تعرض نہ ہو) جو کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں جن کے اور تمہارے در میان معاہدہ ہو اور وہ تمہارے پاس اس حالت میں آئیں کہ ان کے سینے تنگی محسوس کرتے ہوں کہ تم سے یا اپنی قوم سے لڑیں۔ معاہدہ نے ان کے اور تمہارے ہاتھ باندھ دئے ہیں کہ کسی کے خلاف تلوار نہیں اٹھا سکتے۔ دوسرا حوالہ اس آیت کا ہے جس میں عدل و انصاف سے شہادت دینے کا ارشاد ہے۔ فرماتا ہے : فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا ۚ وَإِنْ تَلُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (النساء: ۱۳۶) ترجمہ : اس لئے تم (کسی ذلیل ) خواہش کی پیروی نہ کیا کرو تا عدل کر سکو اور اگر تم (کسی شہادت کو) چھپاؤ گے یا ( اظہار حق سے ) پہلو تہی کروگے تو (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے۔ شہادت سے پہلو تہی کرنا یا ایسے الفاظ میں دینا جن سے شہادت کی غرض باطل ہو جائے جائز نہیں۔ اس ارشاد باری تعالیٰ سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ مُسْتَضْعَفِينَ کے لئے یہ جائز نہیں کہ کلمہ شہادت میں نفاق یا انکار سے کام لیں۔ تیسرا حوالہ اس آیت کا ہے: وَمَنْ يُهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرْغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً وَمَنْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ وَ كَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء : ۱۰۱) اور جو شخص بھی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ ملک میں حفاظت کی بہت سی جگہیں اور فراخی کے سامان ) پائے گا اور جو (شخص) اللہ اور اس کے رسول کی طرف اپنے گھر سے ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آجائے تو ( سمجھو کہ ) اس کا اجر اللہ کے ذمے ہو چکا اور اللہ بہت (ہی) بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ مُسْتَضْعَفِینَ کے تعلق ہی میں مذکورہ بالا ارشاد وارد ہوا ہے کہ اگر ظلم جبر کی صورت اختیار کرلے تو پھر ہجرت کی جائے۔ خواہ موت ہی کا خوف ہو۔ مُرغماً کے معنی ہیں وہ جگہیں جہاں ظلم سے تنگ آکر ہجرت کی جائے۔ یہ شرح ابو عبیدہ کی ہے۔ جعدی شاعر کا قول ہے : عَزِيزُ الْمُرَاغَمِ وَالْمَهْرَبِ: وہ اپنی ہجرت گاہ اور جائے قرار میں بھی معزز ہے۔ ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۲۳) چوتھا تھا حوالہ اس آیت کا ہے : إِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتبًا امَوْقُوتًا موقوتا (الـ (النساء:۱۰۴) یعنی نماز مومنین مومن پر ایسی فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ باجماعت ادا ہو ۔ اور تا وقتیکہ حالت اطمینان اور جماعت میسر نہ ہو، یہ فرض ادا نہیں ہو سکتا۔ اس آیت کی تشریح کے لئے دیکھئے کتاب مواقیت الصلوۃ ، بابا روایت نمبر ۵۲۱۔ (مجاز القرآن لابي عبيدة ، تفسير سورة النساء، آيت وَمَنْ يُهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللهِ ، جزء اول صفحہ ۱۳۸)