صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 201 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 201

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء وَالْوِلْدَانِ (النساء : ۹۹) قَالَ كُنْتُ أَنَا نے یہ آیت پڑھی: ان مردوں اور عورتوں اور بچوں کے سوا جنہیں کمزور سمجھا جاتا ہو۔انہوں وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللهُ۔أطرافه ١٣٥٧، ٤٥٨٧ ٤٥٩٧۔نے کہا: میں اور میری ماں بھی انہی لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ نے معذور رکھا۔وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاس حَصِرَتْ اور حضرت ابن عباس سے منقول ہے : حَصِرَتْ (النساء: ٩١) ضَاقَتْ، تَلْوُوا أَلْسِنَتَكُمْ صُدُورُهُھ کے معنی ہیں ان کے سینے تنگ ہو گئے۔تَلْوُوا أَلْسِنَتَكُمْ بِالشَّهَادَةِ۔وَقَالَ غَيْرُهُ الْمُرَاغَمُ سے یہ مراد ہے کہ شہادت دیتے وقت وہ اپنی زبانیں ہیر پھیر کر الْمُهَاجَرُ، رَاغَمْتُ هَاجَرْتُ قَوْمِي، بات کرتے ہیں اور (حضرت ابن عباس کے سوا) مَوْقُوتًا مُوَفَّتًا وَفَّتَهُ عَلَيْهِمْ۔ایک اور شخص نے کہا: الْمُرَاغَم کے معنی ہیں وہ جگہ جہاں ہجرت کی جائے۔دائمٹ قومی: میں اپنے لوگوں کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلا گیا۔مَوْقُوتًا کے معنی ہیں مقررہ وقت پر۔وَقتَهُ عَلَيْهِمْ۔یعنی اللہ نے ان کے لئے اس (نماز) کو خاص وقت پر ادا کرنے کے لئے مقرر کیا۔ريح : وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ: پوری آیت یہ ہے: وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجُنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا، وَاجْعَلُ لَنَا مِنْ تَدنَكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا (النساء : ۷۶) اور تمہیں کیا ( ہو گیا) ہے کہ تم اللہ کی راہ میں) اور اُن کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کی راہ میں جنگ نہیں کرتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال اور اپنی جناب سے ہمارا کوئی دوست بنا (کر بھیج) اور اپنے حضور سے (کسی کو) ہمارا مددگار بنا کر کھڑا کر )۔اس باب سے لفظ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ کی تشریح کے علاوہ بعض روایات کی تصحیح مقصود معلوم ہوتی ہے۔كُنتُ أَنَا وَ أُقِي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ: سفیان بن عیینہ سے روایت نمبر ۱۳۵۷ بایں الفاظ مروی ہے: گنت أَنَا وَأَقِي مِنَ المُسْتَضْعَفِينَ أَنَا مِنَ الوِلْدَانِ وَأَخِي مِنَ النِّسَاءِ۔میں اور میری ماں ان لوگوں میں سے تھے جنہیں کمزور سمجھا جاتا تھا، میں بوجہ بچہ اور میری ماں بوجہ عورت ہونے کے۔اور ایک سند میں حضرت ابن عباس سے یہ الفاظ مروی ہیں: كُنْتُ أَنَا وَأُقي ممَّنْ عَذَرَ الله (روایت نمبر ۴۵۸۸) میں اور میری ماں ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے معذور ٹھہر آیا ہے۔