صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 195
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۹۵ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء وَقَالَ جَابِرُ كَانَتِ الطَّوَاغِيتُ الَّتِي يَتَحَاكَمُونَ إِلَيْهَا: ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے موصولاً نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت جابر سے طاغوت کی نسبت پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ کا ہن و پنڈت ہی کا نام ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۱۸) طواغيت جمع ہے۔طَوَاغِيْتُ الْعَرَب مشرکین کے مذہبی سرداروں کا نام تھا۔ان کا فیصلہ قول ناطق سمجھا جاتا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ قبیلہ جہینہ و قبیلہ اسلم اور اسی طرح ہر قبیلہ میں کا ہن ہوتے ، جن کے پاس تنازعات اور مشکل امور حل کرنے کے لئے پیش کئے جاتے تھے۔قدیم الایام سے ان لوگوں کا تسلط عوام الناس پر عجیب و غریب طریق اور ہیبت ناک صورت و شکل میں چلا آتا ہے۔ان کے وضع قطع سے لباس کی طرز اور بود و باش میں علیحد گی لوگوں کو ان سے مرعوب رکھنے میں مدد دیتی ہے۔سورہ نساء میں ان کا ذکر بایں الفاظ ہے: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ أَنْفُسَهُمْ بَلِ اللهُ يُزَيِّ مَنْ يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا ) أَنْظُرُ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَكَفَى بِهِ إِثْمًا مُّبِينًا اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبَتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا هَؤُلاء أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا ( النساء:۵۰ تا ۵۲) کیا تجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیں جو اپنے آپ کو پاک قرار دیتے ہیں۔(ان کا یہ حق نہیں) بلکہ اللہ جسے پسند کرتا ہے اس کو پاک قرار دیتا ہے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کی لکیر کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔دیکھو وہ کس طرح اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور یہ (بات) کافی (طور پر) کھلا (کھلا) گناہ ہے۔کیا تجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیں جنہیں کتاب (الہی) میں سے کچھ حصہ دیا گیا تھا (کہ) وہ بے فائدہ (باتوں) اور حد سے بڑھنے والوں پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔اسی آیت کا حوالہ لفظ الْجِبْتِ وَ الطَّاغُوتِ سے عنوانِ باب میں دیا گیا ہے۔وَقَالَ عُمَرُ الْجِبْتُ السِّحْرُ وَالطَّاغُوتُ الشَّيْطَانُ: جنت کا معنی سحر اور طاغوت کا مترادف شیطان حضرت عمرؓ سے مروی ہیں اور روایت کی سند عبد بن حمید نے موصولاً نقل کی ہے جو مضبوط ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۱۸) یہ امر کہ جنت حبشی زبان کا لفظ ہے تحقیق طلب ہے۔یہ زبان بھی سامی الاصل زبانوں میں سے ہے اور بعید نہیں کہ کثرت استعمال کی وجہ سے حبشی زبان کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔کیونکہ سحر کاری کا عقیدہ احباش اور افریقہ کی باقی اقوام میں اکثر رائج تھا اور اب تک بھی ہے اور ہر ملک میں اس عقیدہ کا ذہنوں پر تسلط رہا ہے۔کیا ہندوستان و جاوا، سماٹرا اور مشرق بعید کے جزائر میں ، کیا امریکہ شمالی و جنوبی کی قدیم آبادیوں خاص کر میکسیکو میں جہاں یہ نہایت مہیب اور سفاکانہ صورت و شکل رکھتا تھا۔جنت جادوگری کی فریب کاری سے مخصوص تھا اور شیطان و طاغوت مترادف نام تھے جو کاہنوں پر اطلاق پاتے تھے۔طبری نے بھی حضرت عمرؓ کے قول کی طرح ایک قول نقل کیا ہے اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: وَالطَّاغُوتُ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةٍ إِنْسَانٍ يَتَحَاكَبُونَ إِلَيْهِ - طاغوت یعنی انسانی صورت میں شیطان، جس کے پاس لوگ اپنے مقدمے فیصلہ کے لئے لے جائیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۱۸) (جامع البيان للطبري، تفسير سورة النساء، آیت اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا، جزء صفحہ ١٣٦) !