صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 194 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 194

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۹۴ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء كُهَّانٌ يَنْزِلُ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ۔وَقَالَ میں بھی ایک تھا اور ہر قبیلہ میں ایک طاغوت عُمَرُ الْجِبْتُ السّحْرُ، وَالطَّاغُوتُ ہوتا۔یہ وہ کا ہن تھے جن پر شیطان اترا کرتا الشَّيْطَانُ۔وَقَالَ عِكْرِمَةُ الْجِبْتُ بِلِسَانِ تھا۔اور حضرت عمرؓ نے کہا: جبت سحر کو کہتے الْحَبَشَةِ شَيْطَانٌ، وَالطَّاغُوتُ الْكَاهِنُ ہیں اور طاغوت شیطان کو۔اور عکرمہ نے کہا: جنت حبشی زبان میں شیطان کو کہتے ہیں اور طاغوت کا ہن کو۔٤٥٨٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ۴۵۸۳: محمد بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ کیا کہ عبده بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں اللهُ عَنْهَا قَالَتْ هَلَكَتْ قِلَادَةٌ لِأَسْمَاءَ نے ہشام بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فِي طَلَبِهَا رِجَالًا فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ سے روایت کی۔فرماتی تھیں: اسماء کا ایک ہارگم ہو گیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاش وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً میں کچھ لوگوں کو بھیجا اور نماز کا وقت آپہنچا اور فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ فَأَنْزَلَ لوگ باوضو نہیں تھے اور انہوں نے پانی بھی نہ اللَّهُ يَعْنِي آيَةَ التَّيَمُّمِ۔پایا۔انہوں نے نماز پڑھ لی اور وہ بغیر وضو تھے۔تو پھر اللہ نے یہ وحی نازل کی۔یعنی تیم کی آیت۔أطرافه: ٣٣٤، ٣٣٦ ٣٦٧٢ ٣٧٧٣ ٤٦٠٧ ٤٦٠٨ ٥١٦٤ ٥٢٥٠ ٥٨٨٢، ٦٨٤٤ ٦٨٤٥ - ☑ یح : وَإِن كُنتُمْ مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَابِطِ : پوری آیت یہ ہے: وَان كُنْتُمْ مَرْضَى اَوْ عَلى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَابِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدً ا طَيْبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوا غَفُورًا (النساء : ۴۴) اور اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو (اور تم جنبی ہو تو تیم کر لیا کرو) یا تم میں سے کوئی جائے ضرور سے آیا ہو (اور تم کو پانی نہ ملے ) اور تم عورتوں سے ہم صحبت بھی ہو چکے ہو (یعنی جنبی ہو) اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو ( یعنی تیم کرو) پھر ( تم ان مٹی والے ہاتھوں کو اپنے مونہوں اور ہاتھوں پر ملو۔اللہ یقیناً بہت معاف کرنے والا (اور ) بہت بخشنے والا ہے۔آیت محولہ بالا میں لفظ صعید کے معنی ہیں سطح زمین، جس پر پانی نہ ملنے کی حالت میں تیم کیا جاسکتا ہے۔مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب التیم۔روایت نمبر ۴۵۸۳ سے ظاہر ہے کہ حالات کے تقاضا سے احکام شریعت نازل ہوئے۔