صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 193 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 193

١٩٣ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء صحیح البخاری جلد ۱۰ ايُّهَا الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ أمِنُوا بِمَا نَزَلْنَا مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَّطْمِسَ وُجُوعًا فَنَرُدُهَا عَلَى ادبارها أو نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنّا اَصْحُبَ السّبْتِ وَكَانَ أَمْرُ اللهِ مَفْعُولاً ( النساء: ۴۸) اے لوگو! جنہیں کتاب ( الہی) دی گئی تھی اس (کتاب) پر جسے ہم نے (آب) اتارا ہے۔جو اس (کلام الہی) کو پورا کرنے والی ہے۔جو تمہارے پاس ( پہلے سے موجود) ہے۔اس سے پیشتر ایمان لے آؤ کہ ہم تم میں سے بڑے آدمیوں کو ہلاک کر دیں اور ان کو ان کی پیٹھوں کے بل پھر ا دیں یا جس طرح ہم نے سبت والوں پر لعنت کی تھی اسی طرح ان پر (بھی) لعنت کریں اور اللہ کی بات (ضرور پوری ) ہو کر رہے گی۔ام لَهُمْ نَصِيبُ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذَا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرَانِ اَم يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا الهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَأَتَيْنَهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيدان (النساء:۵۴ تا۵۶) یعنی کیا ان کا حکومت میں کوئی حصہ ہے ؟ تب تو وہ لوگوں کو کھجور کی گٹھلی کے سوراخ کے برابر بھی نہ دیں گے۔یا جو ( کچھ ) اللہ نے اپنے فضل سے لوگوں کو دیا ہے (کیا) وہ اس کی بنا پر ان سے حسد کرتے ہیں؟ (اگر یہ بات ہے ) تو ہم نے ابراہیم کی اولاد کو (بھی) کتاب اور حکمت دی تھی اور (نیز) ہم نے ان کو بڑی حکومت دی تھی۔پھر ان میں سے بعض تو اس (نئی کتاب) پر ایمان لے آئے اور بعض ان میں سے اس سے رُک رہے۔اور جہنم تمازت میں بہت زیادہ ہے۔مذکورہ تینوں آیات اور آیت محولہ باب اور زیر باب حدیث سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مملکت میں ہر شے ضابطہ الہی سے منضبط ہے۔مجازاۃ میں نہ کسی سے بخل ہے نہ کسی پر تعدی۔انسان کو اخلاق باری تعالیٰ میں اپنے نفس پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جِلْنا بِكَ عَلَى هَوَاء شَهِيدًا پر آب دیدہ ہو گئے۔اس سے آپ کے احساس ذمہ داری کی شدت ظاہر ہے۔بہت ہیں جو ان آیات سے گزرتے ہیں۔سوائے خوش الحانی کے نہ آیات کا مفہوم ذہن میں ہوتا ہے نہ وہ دل میں اثر پیدا کرتی ہیں۔باب ۱۰ وَإِن كُنتُمْ مَرْضَى اَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَابِطِ (النساء: ٤٤) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو (اور تم جنبی ہو تو تیم کر لیا کرو) یا تم میں سے کوئی جائے ضرور سے آیا ہو صَعِيدً ا (النساء: ٤٤) وَجْهَ الْأَرْضِ صَعِيدًا کے معنی ہیں سطح زمین۔اور حضرت جابر وَقَالَ جَابِرٌ كَانَتِ الطَّوَاغِيتُ الَّتِي نے کہا: طاغوت وہ لوگ تھے جن کے پاس عرب يَتَحَاكَمُونَ إِلَيْهَا فِي جُهَيْئَةَ وَاحِدٌ لوگ اپنے مقدمے فیصلہ کے لئے لے جاتے وَفِي أَسْلَمَ وَاحِدٌ وَفِي كُلِّ حَيَّ وَاحِدٌ تھے۔جہینہ قبیلہ میں بھی ایک طاغوت تھا اور اسلم۔