صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 190
صحیح البخاری جلد ۱۰ ١٩٠ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء عَلَى أَفْقَرِ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ کیا چاہتے ہو؟ ان کا بھی پہلوں کی طرح حال وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ ہوگا۔ جب ان لوگوں کے سوا کوئی باقی نہ رہے گا فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ لَا تُشْرِكُ جو اللہ کی عبادت کرتے تھے خواہ نیک ہوں یا برے، تو رب العالمین ان کے پاس ایسے جلوے بِاللَّهِ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔ میں آئے گا جو اس جلوے کے قریب قریب ہو گا جس میں کہ انہوں نے اس کو پہلے دیکھا۔ ان سے پوچھا جائے گا: تم کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ ہر ایک امت اس کے پیچھے چلی گئی ہے جس کی وہ عبادت کرتی تھی۔ وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں لوگوں سے ایسی حالت میں الگ ہوئے جبکہ ہم ان کے بہت ہی محتاج تھے۔ اور ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا اور ہم اپنے اس رب کا انتظار کر رہے ہیں جس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ دو یا تین بار کہیں گے : ہم کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے۔ أطرافه ۲۲، ٤٩١٩ ، ٦٥٦٠، ٦٥٧٤ ، ٧٤٣٨، ٧٤٣٩- ذرہ تشريح: إِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَةٍ: نقدر یعنی در کے وزن کے برابر ھی علم نہیں کرتا۔ الدہ کے معنی ہیں چھوٹی چیونٹیاں اور مٹی کے ذرات ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۱۵) اللہ تعالی فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضْعِفُهَا وَ يُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَ جِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا (النساء : ۴۱ تا ۴۳) یعنی اللہ ہر گز ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرے کرے گا اور اگر (کسی کی) کوئی نیکی ہو گی تو اسے بڑھائے گا اور اپنے پاس سے (بھی) بہت بڑا اجر دے گا۔ اور ان کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں کے متعلق ( بطور ) گواہ لائیں گے ۔ اس دن جنہوں نے کفر کیا ہے اور (اس) رسول کی نافرمانی کی ہے خواہش کریں گے کہ (کاش) ان کو زمین میں دفن کر دیا جاتا اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے۔ سورۂ نساء کی محولہ بالا آیت سے اس حدیث کا صرف اس قدر تعلق معلوم ہوتا ہے کہ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ کی شرح