صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 187 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 187

صحيح البخاری جلد ۱۰ IAZ ۲۵ - كتاب التفسير / النساء موالی کے متعدد معنی بیان کئے گئے ہیں۔ان میں سے جو عقد عہد کی رو سے وارث ہیں سب سے خاوند و بیوی ہیں۔اسی طرح دیگر افراد جو حلفاء کی فہرست میں شمار کئے گئے ہیں۔اور ان کا حق علی حسب حالات ہو گا جن کی وضاحت قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں موجود ہے۔روایت زیر بابے میں جو صورت وراثت بیان کی گئی ہے وہ حالات ہجرت کی وجہ سے تھی اور ایک عارضی اور اختیاری عملدرآمد ہوا جو آیات مواریث سے کالعدم ہو گیا اور یہ آیات بدستور قائم اور واجب العمل ہیں۔بعض مفسرین نے آیت وَالَّذِينَ عَقَدَتْ اَيْمَا لکم کو منسوخ سمجھا ہے جو درست نہیں۔مذکورہ بالا روایت سے ظاہر ہے کہ سابقہ تعامل منسوخ ہوا نہ کہ مذکورہ بالا آیت۔اس روایت سے جو غلط فہمی پیدا ہوئی اسے دور کرنے کے لئے امام بخاری نے موالی کے متعدد معانی بیان کر کے اس طرف توجہ منعطف کی ہے کہ مذکورہ بالا اشخاص بھی حالات کے تقاضا سے از روئے آیت وَ الَّذِيْنَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَأْتُوهُمْ نَصِيبَهُم وارث ہو سکتے ہیں اور ان کے حصوں کا تعین قرآن مجید اور حدیث نبوی میں موجود ہے، جیسا کہ لفظ نصیب بھی دلالت کرتا ہے کہ ایسے موالی کا بھی حصہ مقرر کیا گیا ہے جس کا دینا ضروری ہے۔محولہ آیت کے دونوں حصے قائم ہیں اور قابل عمل۔صرف دیکھنا یہ ہے کہ اولوالارحام کے ماسوا کن حالات میں وارث ہوں گے اور ان کا کیا حصہ ہے۔یعنی خاوند و بیوی جو رحمی رشتہ کی وجہ سے قرابت دار نہیں اور آیت عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ کی رو سے عہد و پیمان کرنے والوں میں شامل ہیں۔اسی طرح آقا و غلام جن کے درمیان معاہدہ آزادی ہوا یا کسی دوسرے نے آقا کو رقم دے کر کسی غلام کی آزادی حاصل کی۔اگر غلام لاوارث فوت ہو جاتا ہے تو آزاد کرانے والا اس کا وارث ہو گا نہ کہ اس کا اصل آقا جو معاوضہ لے کر اپنے حق ملکیت سے دستبردار ہو چکا ہے۔اس تعلق میں دیکھئے بریر ڈا کے ورثے کا واقعہ کتاب العتق ، باب ۱۰ ، روایت نمبر ۲۵۳۶ عنوان باب میں موالی کے متعدد معانی بلا وجہ نہیں دیئے گئے۔آیت وَ الَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ میں جن عہد و پیمان کرنے والوں کا ذکر ہے وہ بھی موالی کے وسیع مفہوم میں شامل کئے گئے ہیں۔آیت کے دونوں حصے متضاد نہیں کہ ایک ناسخ اور دوسری منسوخ سمجھی جائے۔اگر دوسری منسوخ ہوتی تو فَأْتُوهُم نَصِيبَهُمْ یہ نہ کہا جاتا کہ ان کا مقرر حصہ انہیں دو۔قرآن مجید کی آیت وَ أُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أولى بِبَعْضٍ فِي كِتَبِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالمُهْجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَبِكُمْ مَعْرُوفًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَبِ مَسْطُورًا (الاحزاب:۷) اور رحمی رشتہ داروں میں سے اللہ کی کتاب کے مطابق بعض بعض سے زیادہ قریبی ہیں یہ نسبت (غیر رشتہ دار ) مومنوں اور مہاجروں کے۔ہاں تمہارا اپنے دوستوں سے نیک سلوک کرنا جائز ہے) یہ بات قرآن میں لکھی جاچکی ہے۔نیز سورۃ انفال کی آیت نمبر ۷۳ تا ۷۶ میں اولیاء کی تعریف کی گئی ہے اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی ہدایت الگ ہے اور اس کے لئے ایک تہائی وصیت میں سے دیئے جانے کا راستہ کھلا ہے۔اس لئے ان آیات کے ناسخ یا منسوخ ہونے کا سوال پیدا نہیں ہو تا۔عقیدہ نسخ آیات محض ایک خیالی ہے اور نہایت بودہ ہے اور اس کی کمزوری اس امر سے ظاہر ہے کہ کسی نے منسوخ آیات کی تعداد ۵۰۰ بتائی ہے اور کسی نے صرف پانچ اور کسی کے نزدیک کوئی آیت منسوخ نہیں۔جس سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا خیال کا اصل باعث فہم آیات کی کمزوری ہے۔