صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 185
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۸۵ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء ہے۔ یعنی عورتوں کو ان کے واجبات بطور مہر دو۔ نِحْلَةً کے معانی فَرِيضَةً بھی قتادہ سے مروی ہیں۔ اس آیت میں عورتوں کے ولی مخاطب ہیں۔ عورت کا حق مہر لینے اور حسب خواہش صرف کرنے سے انہیں روکا گیا ہے۔ نِحْلَةً کے معانی کلام عرب میں واجب کے ہیں۔ جیسا کہ طبری نے بیان کیا ہے۔ امام بخاری کو اس شرح کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ بعض نے نخلہ کے معنی عطیہ کئے ہیں۔ یعنی بخشش ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۱۰) جس کا دینا یا نہ دینا اختیاری امر ہے۔ اس غلط مفہوم کارڈ مقصود ہے۔ یہ حق جسے صدقات کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ، بطور فرض کے واجب ہو گا۔ صدقہ کا مفہوم بتایا جا چکا ہے کہ وہ عمل جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے اور ہر نقص سے خالی ہو۔ خود لفظ صدقہ کے معنوں میں وجوب کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جس طرح اسلام میں صلوۃ و صوم و حج وغیرہ عبادات میں بعض فرض اور بعض نفل ہیں۔ اسی طرح بیوی کو بوقت نکاح مہر دئے جانے کا حکم خاوند کو ہے۔ وہ بھی دو قسم کا ہے۔ ایک مہر جو فرض واجب ہے اور اس کے علاوہ بطور تحفہ و ہدیہ ۔ اتوا النِّسَاءَ صَدُ فتھن میں صدقات کا معنی مہر اسی مفہوم میں آیا ہے اور لفظ نحلة سے وضاحت کی گئی ہے کہ اس کی ادائیگی فرض واجب ہے نہ کہ اختیاری امر ۔ باب ۷ وَلِكُلِّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَأْتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا (النساء : ٣٤) الْآيَةَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور ہر ایک (شخص) کے لئے ہم نے اس کے ترکہ کے متعلق وارث مقرر کر دئے ہیں ( وہ وارث ) ماں باپ اور قریبی رشتہ دار (ہیں) اور وہ (بھی) جن کے ساتھ تم نے پکے عہد و پیمان کئے ہیں (یعنی بیویاں یا خاوند ) سو ان کو بھی ان کا مقررہ حصہ دو۔ اور اللہ ہر ایک امر پر یقینا نگران ہے۔ وَقَالَ مَعْمَرٌ مَوَالِي (النساء : ٣٤) أَوْلِيَاءُ اور معمر نے کہا : مَوالی کے معنی والی یعنی وارث۔ وَرَثَةٌ، عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ هُوَ مَوْلَى عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سے مراد ہیں وہ وارث جن الْيَمِينِ وَهْوَ الْحَلِيفُ، وَالْمَوْلَى أَيْضًا کے ساتھ پکے عہد و پیمان ہیں۔ نیز مولی چا کے ابْنُ الْعَمِّ وَالْمَوْلَى الْمُنْعِمُ الْمُعْتِقُ بے کو بھی کہتے ہیں اور وہ آقا بھی جو احسان کر کے وَالْمَوْلَى الْمُعْتَقُ وَالْمَوْلَى الْمَلِيكُ غلام کو آزاد کر دے اور مولی اس غلام کو بھی وَالْمَوْلَى مَوْلًى فِي الدِّينِ۔ کہتے ہیں جو آزاد کر دیا جائے اور مولی بمعنی مليك یعنی بادشاہ بھی ہے۔ ایسا ہی دینی پیشوا بھی مولی کہلاتا ہے۔