صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 182
صحیح البخاری جلد ۱۰ IɅr ۶۵ - کتاب التفسير / النساء مَا أَحَبَّ فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ اور ماں باپ کو وہ ملتا تھا جو مرنے والا وصیت الأنْثَيَيْنِ (النساء: (۱۲) وَ جَعَلَ کر جاتا۔تو اللہ تعالیٰ نے اس دستور سے جو پسند کیا لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُس منسوخ فرما دیا اور مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر مقرر کیا اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ اور ایک تہائی مقرر کیا اور بیوی کے لئے آٹھواں اور چوتھائی حصہ مقرر کیا اور وَالثُّلُثَ وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثَّمَنَ وَالرُّبعَ وَالزَّوْحِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ۔أطرافه: ٢٧٤٧، ٦٧٣٩ - خاوند کے لئے آدھا اور چوتھا حصہ۔تشریح: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُم : یہ آیت بھی باب کی محولہ بالا آیت ہی کا حصہ ہے۔جس میں یہ حکم ہے کہ اگر بیویاں بے اولاد ہونے کی حالت میں فوت ہو جائیں تو خاوندوں کو ان کے ترکہ سے نصف ملے گا۔زیر باب روایت میں جس نسخ کا ذکر ہے اس کا تعلق سابقہ دستور کی منسوخی سے ہے نہ کسی آیت سے۔جیسا کہ امام ابن حجر نے ذکر کیا ہے۔علامہ طبری نے ایک اور سند سے حضرت ابن عباس ہی کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جب آیات میراث نازل ہو ئیں تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا ہم کم سن لڑکی کو ترکے سے دیں۔جبکہ وہ گھوڑے پر سواری نہیں کر سکتی اور نہ دشمن سے مدافعت کر سکتی ہے؟ وَكَانُوا۔۔۔فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُعْطُونَ الْمِيرَاكَ إِلَّا مَنْ قَاتَلَ الْقَوْمَ (یعنی زمانہ جاہلیت میں لوگ میراث نہیں دیتے تھے مگر اسے ہی جو کسی قوم سے جنگ میں شامل ہوتا ) پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو مناسب نہیں سمجھا اسے منسوخ کر دیا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ آیات میراث نازل ہونے سے قبل سابقہ شریعت اور دستور ملک کے مطابق عمل ہو تا رہا اور اللہ تعالیٰ نے جو پسند کیا اسلام میں قائم رکھا اور جو مناسب نہیں سمجھا اسے منسوخ کر دیا۔علامہ ابو مسلم اصبہانی کے نزدیک قرآن مجید میں کوئی آیت دوسری آیت کی ناسخ نہیں اور یہ لفظ تخصیص کے لئے استعمال ہوا ہے، نسخ کے لئے نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۰۹،۳۰۸) اور یہی عقیدہ جماعت احمدیہ کا ہے۔سابقہ باب کی شرح میں واضح کیا جا چکا ہے احکام میں عموم و خصوص کی صورت قطعا ناسخ منسوخ نہیں کہلاتی اور اس مفہوم میں قرآن مجید کی آیات میں کوئی آیت دوسری آیت سے منسوخ نہیں۔آئمہ اسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ شریعت اسلامیہ سابقہ شریعتوں کی ناسخ ہے اور اسی مفہوم میں آیت مَا نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نَفْسِهَا (البقرۃ: ۱۰۷) آئی ہے۔لِكُلِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ وَالقُلتَ: مراد یہ ہے کہ ماں باپ دونوں کو چھٹا یا تہائی اور خاوند وبیوی کو نصف یا چو تھائی یا آٹھواں مختلف صورت حالات میں دیا جائے گا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۰۹) (جامع البيان للطبري، تفسير سورة النساء، آیت يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ، جزء ۶ صفحه ۴۵۸)