صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 181 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 181

صحیح البخاری جلد ۱۰ IA ۶۵- کتاب التفسير / النساء نہ ہو اور اس کے ماں باپ (ہی) اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تیسر ا حصہ (مقرر) ہے، لیکن اگر اس کے بھائی (بہن موجود) ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ (مقرر) ہے۔( یہ سب حصے) اس کی وصیت اور (اس کے ) قرض (کی ادائیگی) کے بعد ( ادا ہوں گے ) تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ دادوں ) اور تمہارے بیٹوں میں سے کون تمہارے لئے زیادہ نفع رساں ہے، (یہ) اللہ کی طرف سے فرض مقرر کیا گیا ہے۔اللہ یقیناً بہت جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔روایت زیر باب میں فنزلت کا مفہوم یہ ہے : مذکورہ آیت مواریث کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ترکہ سے متعلق نازل ہوئی اور اس کے مطابق عمل درآمد ہوا تھا۔خود اس آیت کے الفاظ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دین میں گنجائش موجود ہے کہ سابقہ باب کی آیت کے مطابق بھی عمل ہو۔دونوں آیتیں ایک دوسرے کی نقیض نہیں کہ ان میں سے کسی کو منسوخ سمجھا جائے۔ان میں عموم و خصوص کا فرق ہے۔ایک میں حکم عام ہے اور دوسری میں خاص۔آیت مواریث سورہ نساء کی ہے جس کے نزول کی تاریخ ۵،۴ ھ ہے۔جنگ احد کے بعد صحابہ کرام کی شہادت کے بعد ترکہ کا سوال پیچیدہ ہوا۔مذکورہ بالا باب قائم کرنے کے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حضرت جابر کلالہ کی حالت میں فوت ہوئے تھے۔اس لئے اس آیت کے نزول کا ان کے واقعہ سے تعلق نہیں بلکہ آیت يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيَكُمُ فِي الْكَلَةِ (النساء:۱۷۷) سے تعلق ہے۔جیسا کہ امام مسلم کی روایت میں جو بسند شیبہ بن منکدر مروی ہے۔کہ اس آیت ے کی مزید شرح سورہ نساء کے آخر میں دیکھی جائے۔مختصر الفاظ میں مواریث سے متعلق اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔جنہیں مد نظر رکھنے کی فقہا اور آئمہ اسلام نے مبسوط کتابیں لکھ کر حکام وقت کی راہنمائی کی ہے اور یہ اسلوب ایجاز زبان عربی ہی کا خاصہ ہے۔بَابه : وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمُ (النساء : ١٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) تمہارے لئے اُس (ترکہ) کا نصف ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں ٤٥٧٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۴۵۷۸ محمد بن یوسف نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ وَرْقَاءَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ نے ورقاء ( بن عمر بیشکری) سے ، ورقاء نے ابن عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابی بیج ہے،انہوں نے عطاء سے، عطاء نے قَالَ كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ وَكَانَتِ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ انہوں نے کہا: ساری جائیداد اولاد کی ہوا کرتی تھی ↓ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” وہ تجھ سے فتوی مانگتے ہیں۔کہہ دے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتوی دیتا ہے۔(مسلم، کتاب الفرائض ، باب ميراث الكلالة)