صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 179 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 179

صحیح البخاری جلد ۱۰ 129 ۶۵ - کتاب التفسير / النساء ہے۔یتیموں کے ولی دو قسم کے ہیں: (وَالٍ يَرِثُ) ایک ولی جو وارث ہوتا ہے۔یعنی متوفی کے ترکہ میں حصہ دیا جاتا ہے اور دوسرا ( وال لا تیرٹ) ولی جو وارث نہیں ہوتا۔اس کے لئے اجازت ہے کہ یتیم کے اموال سے حق حفاظت و نگرانی کے عوض میں دستور کے مطابق لے اگر وہ محتاج ہو اور گزارہ کی صورت نہیں رکھتا۔مذکورہ بالا دونوں روایتوں کی سند مضبوط ہے۔نسخ کے بارے میں روایتیں بھی حضرت ابن عباس سے منقول ہیں، جو ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ کے نزدیک کمزور ہیں، لیکن سعید بن مسیب سے مروی روایت سند صحیح ہے اور ائمہ اربعہ نے بھی اس کی صحت تسلیم کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۰۵) مگر یہ نسخ ایک اضافی امر ہے، جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ آیت مواریث میں جن کے حصے مقرر کر دیئے گئے ہیں، اگر ان میں سے یتیم کا ولی ہو مثلاً بڑا بھائی اپنے نابالغ بھائی کا، تو اس کے لئے یہ آیت قابل تعمیل ہے۔چنانچہ مسند عبد الرزاق میں قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی بکر نے اپنے باپ عبد الرحمن کی وفات پر ترکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں تقسیم کیا تو انہوں نے اولو القربی میں سے کسی قرابت دار اور مسکین کو نہیں چھوڑا، ترکے سے دیا۔قاسم کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ما أَصَابَ لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ - إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى الْوَصِي وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْعَصَبَةِ أَيْ نُرِبَ لِلمَيِّتِ أَن يُوصِيَ لَهُمُ : یعنی آیت کی تطبیق میں غلطی کھائی ہے۔یہ مالک اموال کے لئے ایک مندوب امر ہے کہ فوت ہونے سے پہلے ۱/۳ میں سے وصیت کرے کہ فلاں فلاں مسکین یا رشتہ دار کو بھی دیا جائے۔ولی کا حق نہیں کہ وہ ایسا کرے۔یہ حوالے دینے کے بعد امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ مذکورہ بالا قول باب ۳ کی محولہ روایت اور اس کے موضوع کے منافی نہیں۔آیت مذکورہ بالا بہر حال محکم ہے منسوخ نہیں۔اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تقسیم میراث کے وقت جب غیر وارث رشتے دار، بتائی اور مساکین آئیں تو ترکہ کی مقدار کافی ہو تو انہیں بھی بطور حسن سلوک اس میں سے دیا جا سکتا ہے۔اختلاف صرف امر میں ہے کہ ایسا کرنا واجب ہے یا مستحب ہے۔مجاہد اور بعض علماء اس کی تعمیل واجب سمجھتے ہیں اور یہی رائے امام ابن حزم کی ہے اور بعض کی رائے ہے کہ یہ مستحب ہے واجب نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۰۶،۳۰۵) غرض دونوں فریق کے نزدیک آیت منسوخ نہیں۔حالات کا تقاضا مد نظر رہنا چاہیے اور اس تعلق میں یہ امر بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اجتہاد کا دروازہ جس طرح آئمہ اربعہ کے لئے کھلا تھا دیگر ائمہ ابن حزم، ابن تیمیہ اور امام بخاری وغیرہ کے لئے بھی کھلا ہے۔صرف دیکھنا چاہیئے کہ سیاق کلام اور زبان عربی اس کی متحمل ہے یا نہیں اور قرآن مجید کی وسعت و عظمت اور اس کی شان کس امر میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن مجید کے جن حقائق سے متعلق نقاب کشائی فرمائی ہے ان میں ایک امر یہ بھی ہے کہ اس کا نزول زبان عربی میں ہوا ہے جو امر الألسنة ہے اور اس کے الفاظ و معانی، کلام اور اسالیب بیان میں بہت بڑی وسعت ہے۔