صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 178
صحیح البخاری جلد ۱۰ IZA ۶۵ - كتاب التفسير / النساء باب ٣ وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى وَالْيَتْلَى وَالْمَسَكِينُ (النساء: 9) الْآيَةَ (اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) جب تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں ٤٥٧٦ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ :۴۵۷۶ احمد بن حمید ( قرشی کوفی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ بیان کیا کہ عبید اللہ اشجعی نے ہمیں بتایا۔انہوں سُفْيَانَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے ( ابو اسحاق ) ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَإِذَا شیبانی سے، شیبانی نے عکرمہ سے، عکرمہ نے الْقِسْمَةَ أولُوا الْقُربى واليتى حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وَالْمَسْكِينُ (النساء: 9) قَالَ هِيَ مُحْكَمَةٌ آيت وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أَولُوا الْقُرْبَى وَالْيَشْى وَالمَسکین - جو ہے، انہوں نے کہا: یہ محکم ہے وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوحَةٍ۔اور منسوخ نہیں۔تَابَعَهُ سَعِيدٌ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاس (عکرمہ کی طرح) سعید بن جبیر نے بھی حضرت ابن عباس سے یہی روایت بیان کی۔طرفه ٢٧٥٩۔تشريح : وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبَى وَالْيَتَنِي وَالْمَسْكِينُ: اور جب (ترکہ کی) تقسیم کے وقت (دوسرے) قرابت دار اور یتیم اور مسکین ( بھی ) آجائیں تو اس میں سے کچھ انہیں (بھی) دے دو اور انہیں مناسب ( اور عمدہ) باتیں کہو۔روایت زیر باب کے راوی احمد بن حمید قرشی کوئی ثقہ رادی ہیں۔عبید اللہ بن موسیٰ کے داماد تھے۔سفاح خلیفہ عباسی کی بیوی ام سلمہ کے پڑوسی تھے۔علماء اہل کوفہ میں ان کا شمار تھا۔۲۲۰ھ میں فوت ہوئے۔اس روایت کے سوا صحیح بخاری میں ان کی اور کوئی روایت نہیں۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۰۵) تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبّاس: سعید بن جبیر نے وصایا کے ضمن میں (زیر روایت نمبر ۲۷۵۹) حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ مواریث ( حصص وراثت) سے متعلق آیات کے نزول کے بعد یہ آیت منسوخ ہے۔مگر بخدا یہ منسوخ نہیں محکم ہے۔لوگوں نے اس آیت پر عمل میں غفلت سے کام لیا ا ترجمه مضرت خلیفة المسیح الرابع : اور جب (ترکہ کی) تقسیم پر (ایسے) اقرباء (جن کو قواعد کے مطابق حصہ نہیں پہنچتا اور یتیم اور مسکین بھی آجائیں۔