صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 173
۱۷۳ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء صحیح البخاری جلد ۱۰ کے لئے شہادت دینے والے خواہ شہادت اپنے نفسوں کے خلاف ہی ہو۔قوام صیغہ مبالغہ ہے جو قام سے مشتق ہے اور انسانوں کے لئے بطور وصف استعمال ہوتا ہے اور اسی سے لفظ قیوم ہے جو اللہ تعالیٰ کا وصف ہے۔دونوں صیغوں میں فرق یہ ہے کہ قیوم کی صفت ذاتی اور مستقل ہے اور قوام کی اکتسابی اور عارضی۔آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی صفت قیومیت کا ذکر مخلوق کی پرورش، حاجت براری، نگرانی، حفاظت، قیام نوازی اور تدبیر مملکت کے معنوں میں وارد ہوا ہے اور مرد بحیثیت قوام صفت قیومیت کے مظہر ہیں، اگر وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور ادا کریں۔الرِّجَالُ قَوَامُونَ عَلَى النِّسَاء کا مفہوم مذکورہ بالا شرح سے واضح ہے کہ مرد عورتوں کی معاشی ضروریات مہیا کرنے والے، ان کے مربی اور ان کے محافظ و نگران ہیں اور یہ فرائض خادمانہ حیثیت کے ہیں اور اس آیت میں دونوں کی حیثیت اور ان کے فرائض متعین ہوتے ہیں، کیونکہ جو قوموں کی وجہ بیان فرمائی ہے وہ دونوں پر مشتمل ہے۔بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ( النساء:۳۵) اس لئے کہ اس نے مردوں اور عورتوں دونوں کو ایک دوسرے پر ( ان کے مخصوص فرض منصبی کی بنا پر) فضیلت دی ہے۔عورت کو سلسلہ پیدائش کے لئے مخصوص فرمایا ہے اور اس کے سپر د تربیت اولاد اور امور خانہ داری کا نظم و نسق ہے۔اس وجہ سے اسے اپنے دائرہ ذمہ داری میں مرد پر فوقیت ہے اور مرد کو اپنی ذمہ داریوں کے اعتبار سے عورتوں پر فضیلت ہے۔جب مردوں اور عورتوں کا ذکر اکٹھا ہو تو ان کے لئے ضمیر مذکر ہوتی ہے ، فرماتا ہے: فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أَضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ انْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ (آل عمران: ۱۹۶) چنانچہ اُن کے رب نے (یہ کہتے ہوئے ) اُن کی (دعا) من لی کہ تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کروں گا۔تم ایک دوسرے سے (تعلق رکھنے والے ) ہو۔یہاں ضمیر ھذہ اور گھر مذکر ہے اور دونوں پر مشتمل ہے۔اسی طرح مذکورہ بالا آیت میں بھی۔۲۔دوسری آیت جس کا بطور تمہید حوالہ دیا گیا ہے، یہ ہے: وَ اِن خِفْتُمُ أَلَا تُقْسِطُوا فِي الْيَثْنى فَانْكِحُوا مَا طابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنى وَثُلثَ وَرُبعَ : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى الا تَعُولُوا (النساء:۴) ترجمہ: اور اگر تمہیں ( یہ ) خوف ہو کہ تم یتیموں (کے بارہ) میں انصاف نہ کر سکو گے۔تو جو (صورت) تمہیں پسند ہو کر لو، یعنی غیر یتیم ) عورتوں میں سے دو دو (سے) اور تین تین (سے) اور چار چار سے نکاح کر لو۔لیکن اگر تمہیں (یہ) خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی (عورت) سے یا ان (لونڈیوں) سے جو تمہارے ہاتھوں میں ہیں نکاح کرو۔یہ طریق اس بات کے ) بہت قریب ہے کہ تم ظالم نہ ہو جاؤ۔ج بَاب ۱ : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتى (النساء: ٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اگر تم ڈرو کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے ٤٥٧٣ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۵۷۳ ابراهیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْج قَالَ کہ ہشام بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج