صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 172
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۷۲ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء کرنے والا۔(۵) مربی۔(۶) محافظ و نگران۔(۷) اعتدال کی حالت قائم رکھنے والا۔یہ ساتوں معنی خود قرآن مجید میں آئے ہیں اور اس کے تعلق میں بعض صحابہ کرام کی طرف سے محولہ آیات کا وہ مفہوم پیش کیا گیا ہے جو سورہ نور کے نازل ہونے سے قبل موسوی شریعت کے دستور کے مطابق سمجھا جاتا تھا۔سورۂ نساء غزوہ اُحد کے بعد نازل ہوئی ہے جو ۳ھ میں واقع ہوئی اور اس کا نزول ۳ اور ۴ھ سے تجاوز نہیں کرتا۔جبکہ سورہ نور کا نزول یقینی طور پر ۳۱ غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر ایک مدت بعد ہوا، اور یہ غزوہ ۵ ھ میں تھا۔ان دونوں سورتوں کے نزول میں تقریباً دو سال کا فاصلہ ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ روایات جن میں رجم کا ذکر ہے ان کا تعلق سابقہ دستور سے ہے۔آنحضرت صلی علی کم سابقہ شریعت پر عمل فرماتے تھے تاوقتیکہ کوئی سابقہ حکم وحی الہی سے منسوخ نہ ہو جائے۔وَقَالَ غَيْرُهُ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبع : اس آیت کے تعلق میں بعض نے کہا کہ اس میں اجازت صرف چار تک نہیں بلکہ اس سے زیادہ شادیاں کی جاسکتی ہیں اگر استطاعت ہو اور انصاف برتا جائے۔وَلَا تُجَاوِزُ الْعَرَبُ رُبَاع ابو عبیدہ کے حوالہ سے اس خیال کا رڈ کیا گیا ہے کہ عرب لوگ چار سے زیادہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔مسئلہ تعداد نکاح کا تعلق بھی حقوق نسواں کے مسائل میں سے ہے، اس لئے وہ نمایاں کر کے بیان کیا گیا ہے۔محولہ بالا آیات مع ترجمہ و مفہوم حسب ذیل ہیں: - الرِّجَالُ قَوَمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ - فَالصَّلِحْتُ قنتت حفظتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللهُ وَ الَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (النساء:۳۵) یعنی مرد عورتوں پر اس فضیلت کے سبب سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو دوسروں پر دی ہے اور اس سبب سے کہ وہ اپنے مالوں میں سے ( عورتوں پر ) خرچ کر چکے ہیں نگران (قرار دیئے گئے ہیں۔پس نیک عورتیں فرمانبردار اور اللہ کی مدد سے پوشیدہ امور کی محافظ ہوتی ہیں اور جن کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو ( تم ) انہیں نصیحت کرو اور انہیں خواب گاہوں میں اکیلا چھوڑ دو اور انہیں مارو۔پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ تلاش کرو۔اللہ یقیناً بہت بلند (اور) بڑا ہے۔یہ آیت مردوزن کی حیثیت جو معاشرہ اسلامیہ میں ہے معین کرتی ہے۔اسے سمجھنے کے لئے لفظ قوام کا مفہوم جو قرآن مجید اور حدیث نبوی میں وارد ہوا ہے وہ سمجھ لینا چاہیے۔اسی طرح جملہ فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعض کا مفہوم بھی۔لفظ قائد علاوہ کھڑے ہونے کے کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔قائم ہو: اسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔قائم علیہ: اس کی حفاظت کی، اس کی ضرورتیں پوری کیں۔قائمہ کے معنی مربی، نگران اور حالت اعتدال قائم رکھنے والا۔فرماتا ہے : أَفَمَنْ هُوَ قَابِمُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ (الرعد: ۳۴) کیا وہ ذات جو ہر نفس کے اعمال کی نگران ہے اس سے نہیں پوچھے گی کہ اس نے کیا کچھ کمایا اور فرمایا: تأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاء لِلَّهِ وَ لَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمُ (النساء : ۱۳۶) یعنی اے ایماندارو ! عدل و انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ تعالیٰ