صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 171 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 171

صحیح البخاری جلد ۱۰ اكا ۶۵ - کتاب التفسير / النساء زیادہ دے گا اور جن لوگوں نے برا منایا تھا اور تکبر کیا تھا انہیں وہ درد ناک عذاب دے گا اور وہ اللہ کے سوانہ (کسی کو) اپنا دوست پائیں گے اور نہ مدد گار۔ قواما کے معانی ہیں تمہاری زندگی کا سامان مہیا کرنے والے۔ یہ معنی حضرت ابن عباس سے بواسطہ ابن ابی حاتم موصولاً مروی ہیں اور طبری سے بھی۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۹۹) لَهُنَّ سَبِيلًا : سنگساری کی سزا زانیہ کے لئے موسوی شریعت کے مطابق عربوں میں جاری تھی۔ آیت کا یہ مفہوم که شادی شدہ یا باکرہ تمہاری اطاعت نہ کریں تو ثیبہ کو سنگسار کرو اور باکرہ کو کوڑے لگاؤ، حضرت ابن عباس ہی سے بواسطہ عبد بن حمید بیان ہوا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی ایک روایت مسلم اور اصحاب السنن نے نقل نقل کی کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خُذُوا عَنِّي ، خُذُوا عَنِّى ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفَى سَنَةٍ - (یعنی مجھ سے لے لو ، مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لئے راہ مقرر کر دی ہے۔ غیر شادی شدہ کی غیر شادی شدہ کے ساتھ (سزا) سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔) وَالطَّيِّبُ بِالطَّيِّبِ جَلْدُ مائة، والرجم ( اور شادی شدہ کی شادی شدہ کے ساتھ (سزا) سو کوڑے اور رجم ہے۔) اور طبرانی نے حضرت ابن عباس کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جب سورہ نساء نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا حَبْسَ بَعْدَ سُورَةِ النِّسَاءِ کے یعنی سورہ نساء نازل ہونے کے بعد قید کی سز منسوخ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۰۰) لیکن الفاظ لَهُنَّ سَبِيلًا سورة النساء کی جس آیت کریمہ میں آئے ہیں اس میں بے حیائی جیسے ناپسندیدہ افعال کا ذکر ہے، زنا کے جرم کا ذکر نہیں۔ اُس کا ذکر سورۃ النور آیت نمبر ۳ میں ہے۔ چونکہ رجم یا کوڑوں کی سزا کا تعلق زنا کے جرم سے ہے، لہذا سورۃ النساء کی اس آیت کو سورۃ النور کی آیت نمبر ۳ سے منسوخ سمجھنا ایک غلطی ہے۔ سے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاری نے سورہ نساء کے مشکل الفاظ کا مستند روایات کی بنا پر حل پیش کرنے سے قبل یہ تمہید کیوں قائم کی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ بشریہ کے دو رکنوں کے باہمی تعلقات و حقوق و واجبات کے بارے میں سورہ نساء کی وہ آیت منتخب کی ہے جو اصولی ہے۔ قواما کے سات معانی ہیں: (۱) اپنی ذات میں قائم (۲) اکتسابی طور پر دوسروں کو قائم رکھنے والا۔ (۳) ضرورتوں کا علم رکھنے والا۔ (۴) ضرورتیں پوری (مسلم، کتاب الحدود، باب حد الزنی) (ترمذی، ابواب الحدود، باب ماجاء في الرحم على الثيب) (ابن ماجه، کتاب الحدود، باب حد الزنا) (المعجم الكبير للطبراني، وَمَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللهِ بن عباس ، عكرمة عن ابن عباس، جزءا ا صفحه ۳۶۵) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ” اللہ ان کے لئے راستہ نکال دے“ سے دوباتیں مراد ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ خاوند پہلے فوت ہو جائے اور بیوی آزاد ہو جائے اور دوسرا یہ کہ خاوند اُسے طلاق دیدے تا کہ وہ کسی اور مرد سے شادی کرلے۔“ ( قرآن کریم اردو ترجمہ حضرت خلیفة المسیح الرابع، سورۃ النساء، حاشیہ آیت ۱۶، صفحہ ۱۲۹)