صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 170 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 170

صحیح البخاری جلد ۱۰ 1Z+ ٤ سُورَةُ النِّسَاء ۶۵ - كتاب التفسير / النساء قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ يَسْتَنْكِفُ يَسْتَكْبِرُ، حضرت ابن عباس نے کہا: يَسْتَنکف کے معنی قِوَامًا قِوَامُكُمْ مِنْ مَّعَايِشِكُمْ لَهُنَّ ہیں وہ تکبر کرتا ہے۔قوائما کے معنی ہیں تمہاری سبيلا (النساء :١٦) يَعْنِي الرَّجُم زندگی کا سامان مہیا کرنے والے۔لَهُنَّ سَبِيلًا لِلطَّيِّبِ وَالْجَلْدَ لِلْبِكْرِ وَقَالَ غَيْرُهُ سے مراد رجم کی سزا ہے ، جو بیاہی عورت کو دی جاتی ہے اور کوڑے کی سزا ہے، جو باکرہ کو دی مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبع (النساء: ٤) يَعْنِي جاتی ہے ( زنا کرنے پر۔) اور (حضرت ابن عباس اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثًا وَأَرْبَعًا وَلَا تُجَاوِزُ کے سوا) آوروں نے کہا: مَثْنَى وَثُلَثَ وَ رُبع کے معنی ہیں: دو دو اور تین تین اور چار چار۔الْعَرَبُ رُبَاعَ۔عرب لوگ چار سے آگے نہیں بڑھتے۔تشریح: نفرت کرتا ہے۔جس آیت میں یہ لفظ آیا ہے اس میں يَسْتَكْبِرُ بھی ہے۔اس لئے امام ابن حجر نے ان معنوں پر تعجب کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے ممکن ہے اس سے مراد تاکید ہو۔مگر طبری نے يَأْنف کے معنی کئے ہیں۔یعنی وہ ناک چڑھاتا ہے ، نفرت کرتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۹۹) عیسائی تو میں اپنے تکبر میں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نفرت کرتی ہیں بلکہ اسے مذاق سمجھا ہوا ہے اور مسلمان تعلیم یافتہ طبقے کا بھی یہی حال ہے۔رسمی طور پر عیسائی گرجوں اور مذہبی تہواروں میں شامل ہوتے ہیں تاکہ قومی وضعداری قائم رہے۔آج کل مسلمان تعلیم یافتہ لوگوں میں بالعموم اس وضع داری کا احساس بھی نہیں۔زمین پر خالق ارض و سماء کے حضور سر بسجود ہونا ذلت سمجھا جاتا ہے، پتلون میں شکن پڑ جانے کا اندیشہ دامن گیر ہو جاتا ہے۔جس آیت میں یہ لفظ بصیغہ مضارع و ماضی آیا ہے وہ یہ ہے ، فرماتا ہے: لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلَا الْمَلَيكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَ مَنْ يَسْتَنْكِفَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرُ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ فَيُوَفِّيْهِمْ أجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَ أَمَا الَّذِينَ اسْتَنْكَفُوا وَ اسْتَكْبَرُوا فَيُعَذِبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللهِ وَلِيًّا وَ لَا نَصِيرًا (النساء : ۱۷۳، ۱۷۴) یعنی مسیح ہرگز اس (امر) کو بُرا نہیں منائے گا کہ وہ اللہ کا ایک بندہ متصور ہو اور نہ (ہی) مقرب فرشتے (اسے برا منائیں گے ) اور جو (لوگ) اس کی عبادت سے بُرا منائیں اور تکبر کریں وہ (یعنی خدا تعالیٰ) ضرور ان سب کو اپنے حضور میں اکٹھا کرے گا۔پھر جو لوگ مومن تھے اور انہوں نے نیک اور ایمان کے مناسب حال) عمل کئے تھے انہیں وہ ان کے پورے پورے بدلے دے گا اور اپنے فضل سے انہیں (اور بھی) ريح۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَنْكِفُ: يَستنكف کے معنی ہیں وہ تکبر کرتا ہے، ناک چڑھاتا ہے، (جامع البيان للطبری، تفسير سورة النساء، آیت لَن يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ ، جزء صفحہ ۷۰۷) به خوبه