صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 168
صحيح البخاری جلد ۱۰ زیادہ IMA ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران یخ : آيت رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَد أَخْزینہ سے باب الگ قائم کر کے سابقہ روایت حضرت ابن عباس ایک اور سند سے دہرائی گئی ہے۔اس کا سیاق روایت نمبر ۴۵۷۰ کی نسبت ہ مکمل ہے۔روایت اے ۴۵ میں اصیلی کے مطابق وَأَخَذَ بِيَدِي الْيُمْنَىی کے الفاظ ہیں یعنی آپ نے میرا دایاں ہاتھ پکڑا۔یہ الفاظ راوی سے یہاں سہو ابیان ہوئے ہیں۔باقی تمام ناقلین کے نزدیک اس جگہ أَخَذَ بِاذْنِی یعنی کان سے پکڑنے کا ذکر ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۹۸) رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّار سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: تجھ سے انکار کرنا عین دوزخ ہے۔اور تمام آرام اور راحت تجھ میں اور تیری شناخت میں ہے۔جو شخص کہ تیری سچی شناخت سے محروم رہا وہ در حقیقت اسی دنیا میں آگ میں ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۴) باب ۲۰ ربَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيمَانِ (ال عمران: ١٩٤) الْآيَةَ اے ہمارے رب ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کے لئے بلا رہا تھا ٤٥٧٢: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۵۷۲: قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ مَّالِكِ عَنْ مَّخْرَمَةَ بْن سُلَيْمَانَ مالک سے مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخترمہ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ ابْنَ نے حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سے روایت کی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے انہیں بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُيَ خَالَتُهُ قَالَ حضرت میمونہ کے پاس ایک رات رہے اور وہ ان فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ کی خالہ تھیں۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: میں وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تو شک کی چوڑائی میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ الله عليه وسلم اور آپ کی زوجہ اس کی لمبان میں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا لیٹ گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔