صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 166
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۶۶ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ۔دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر وتر پڑھا۔،۱۱۳۸ ،۹۹۲ ،۸۰۹ ،۷۲٧٢٦، ٨ أطرافه: ۱۱۷، ۱۳۸۸، ۱۸۳ ۶۹۷، ۶۹۸، ۶۹۹، ۱۱۹۸، ٤٥٦٩، ۷۱، ۱۹۷۲، ۵۹۱۹، ٦۲۱۵، ٦٣١٦، ٧٤٥٢۔الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ فِيمَا وَ قُعُودًا وَ عَلَى جُنُو بِهم۔۔: سابقہ باب میں تشریح گزر چکی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان آیات کا تفسیری ترجمہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں دانشمندوں کے لئے صانع عالم کی ہستی اور قدرت پر کئی نشان ہیں۔دانشمند وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو خدا کو بیٹھے ، کھڑے اور پہلو پر پڑے ہونے کی حالت میں یاد کرتے رہتے ہیں اور زمین اور آسمان اور دوسری مخلوقات کی پیدائش میں تفکر اور تدبر کرتے رہتے ہیں اور اُن کے دل اور زبان پر یہ مناجات جاری رہتی ہے کہ اے ہمارے خداوند تو نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو عبث اور بیہودہ طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ہر یک چیز تیری مخلوقات میں سے عجائبات قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی ہے کہ جو تیری ذات بابرکات پر دلالت کرتی ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول صفحه ۳۰۶،۳۰۵) بَاب ۱۹ : رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارِ (آل عمران: ۱۹۳) اے ہمارے رب ! تو نے جسے آگ میں داخل کر دیا تو یقیناً تو نے اس کو رسوا کر دیا اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ٤٥٧١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۵۷۱ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا۔حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى عَنْ مَّالِكِ معن بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔مالک سے عَنْ مَّخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبِ روایت ہے۔انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاس أَنَّ عَبْدَ اللهِ مخرمہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے آزاد کردہ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ غلام کریب سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ