صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 165 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 165

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۶۵ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران بَاب ۱۸ : الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُو جنوبهم و يتفكرون فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (آل عمران: ۱۹۲) الآية (اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) وہ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں کے بل اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور ان بلندیوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں ٤٥٧٠ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴:۴۵۷۰ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي عَنْ کیا کہ عبد الرحمن بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں مَّالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ مَّخْرَمَةَ بْنِ نے مالک بن انس سے ، مالک نے مخرمہ بن سلیمان سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سے، مخرمہ نے کریب سے، کریب نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بِتَ عِنْدَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَی نے کہا کہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ کے پاس صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک رات رہا۔ میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ فَطْرِحَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا (کیونکر پڑھتے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةٌ فَنَامَ رَسُولُ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک تو شک بچھایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طُولِهَا لمبان میں سو گئے۔ پھر جب آدھی رات گزری فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَرَأَ تو آپ جاگے ۔ اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر نیند کا اثر الْآيَاتِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ آلِ دور کرنے لگے۔ پھر آپ نے سورۂ آل عمران کی عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ ثُمَّ أَتَى سِقَاءٌ آخری دس آیتیں پڑھیں۔ جب ختم کیں، اس مُعَلَّقًا فَأَخَذَهُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي کے بعد ایک بڑے مشکیزہ سے جو پاس لٹک رہا تھا فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ آپؐ نے اس سے پانی لیا اور وضو کیا۔ پھر کھڑے جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں بھی اٹھا اور جس طرح عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَ آپؐ نے کیا تھا میں نے بھی کیا اور پھر آکر آپ يَفْتِلُهَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ میرے رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی سر پر رکھا اور پھر میرا کان پکڑ کر ملنے لگے۔ آپؐ