صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 164
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۶۴ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ قَعَدَ سے کچھ دیر باتیں کیں۔ پھر سو گئے۔ جب رات فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ إِنَّ فِي خَلْقِ کی آخری تہائی ہوئی آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ آسمان کی طرف دیکھا اور یہ آیت پڑھی: ان وَالنَّهَارِ لَايَةٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (آل بلندیوں اور اس زمین کی پیدائش میں اور رات عمران: ۱۹۱) ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ أَذَّنَ عقلمندوں کے لئے کئی ایک نشان ہیں۔ پھر آپ بِلَالٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ کھڑے ہو گئے اور آپ نے وضو کیا اور مسواک فَصَلَّى الصُّبْحَ۔ کی۔ پھر گیارہ رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد حضرت بلال نے اذان دی اور آپ دو رکعتیں پڑھ کر باہر چلے گئے اور جاکر صبح کی نماز پڑھائی۔ أطرافه ۱۱۷، ۱۳۸، ۱۸۳، ۶۹۷، ۶۹۸، ۶۹۹، ۷۲۶، ۷۲۸، ۸۵۹، ۹۹۲، ۱۱۳۸، - ٤٥٧٠، ٤٥٧١ ، ٤٥٧٢ ، ٥٩١٩، ٦٢١٥، ٦٣١٦ ، ٧٤٥٢ ،۱۱۹۸ تشريح : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ۔۔۔ ۔۔۔۔: سوره آل عمران کا آخری رکوع اس آیت سے شروع ہوتا ہے کہ ان بلندیوں اور اس زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں عقلمندوں کے لئے کئی ایک نشان ہیں جنہیں دیکھ کر وہ بے اختیار اقرار کرتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا یعنی اے ہمارے رب ! تو نے یہ سب کچھ یو نہی بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ اس آیت سے پہلے قالوا لفظ حذف ہے۔ آیت نمبر ۱۹۱ میں اُولُو الْأَلْبَاب ( عقلمندوں) کی یہ علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور گردنوں کے بل آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (اور پھر بے اختیار اقرار کرتے ہیں: ) رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران : ۱۹۲) یعنی اے ہمارے رب ! تو نے یہ سب کچھ یو نہی بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ تو ہر نقص سے بے عیب ہے جبکہ ہر شے اپنے بے عیب وجود سے اپنے بے عیب خالق کی شہادت دیتی ہے۔ پس تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ( اور ہماری زندگی کو بے مقصد بننے سے بچالے۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کو حضرت باری تعالیٰ کی بستی پر دلیل ٹھہراتے ہیں اور آپؐ نے عَذَابَ النَّارِ سے خالق معبود سے دوری کی تلخی مراد لی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰، صفحه ۴۳۳، ۴۳۴۔