صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 162 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 162

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۶۲ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ هشام بن یوسف کی طرح) عبد الرزاق نے بھی ابن جریج سے یہی روایت بیان کی۔حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلِ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ( محمد ) ابن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ حجاج عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي (بن) محمد ) نے ہمیں بتایا۔ابن جریج سے روایت مُلَيْكَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے مجھے بتایا۔حمید بن بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بِهَذَا عبد الرحمن بن عوف سے مروی ہے کہ انہوں نے مروان کا یہ واقعہ بیان کیا۔شريح۔لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا: پوری آیت یہ ہے: لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَ يُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمُ ) (آل عمران: ۱۸۹) تو ان لوگوں کو جو اپنے کئے پر اتراتے ہیں اور جو (کام) انہوں نے نہیں کیا اس کی بابت (بھی) چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے۔بالکل نہ سمجھ کہ وہ عذاب سے محفوظ ہیں ( وہ پکڑے جائیں گے ) اور ان کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔اتوا کی ایک قرآت أُوتُوا بھی ہے۔( مِنَ العِلمِ یعنی اہل کتاب جو علم دیئے گئے ہیں۔مگر مشہور قراءت وہی ہے جو عنوان باب میں دی گئی ہے) انوا بمعنی فَعَلُوا : انہوں نے کیا۔یعنی غزوہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔باب کی پہلی روایت میں ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے آیت کی تطبیق انہی معنوں میں کی ہے۔باب کی دوسری روایت حضرت ابن عباس کی ہے۔جس میں تطبیق آیت اہل کتاب سے متعلق کی ہے کہ صحف انبیاء سابقین کی پیشگوئیوں میں صراحت ہے کہ عہد کا نبی جو عرب میں سے پیدا ہو گا اس کے ساتھ جنگ کی جائے گی لیکن یہ جنگ کرنے والے پچھڑیں گے۔اس تعلق میں دیکھئے یسعیاہ نبی کی پیشگوئی (یسعیاہ باب ۲۱: ۱۳ تا ۱۷) حضرت ابن عباس نے اپنی مذکورہ بالا تطبیق کی صحت کے بارے میں سیاق کلام کو بطور دلیل پیش کیا ہے جو درست ہے۔یعنی ما قبل آیت وَ إِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ لَتُبَيْنَنَه لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ (آل عمران: ۱۸۸) اور (اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے عہد لیا تھا کہ تم ضرور لوگوں کے پاس اس (کتاب) کو ظاہر کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں۔مذکورہ بالا دونوں روایتوں سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام تطبیق آیات میں آزاد تھے۔ایک نے منافقین میں ! (الكشاف للزمخشرى، تفسير سورة آل عمران آیت يَفْرَحُونَ بِمَا آتَوا، جزء اول صفحه ۴۵۱، ۴۵۲)