صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 161
صحیح البخاری جلد ۱۰ ١٦١ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ بتایا کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ علقمہ بن وَقَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ لِبَوَّابِهِ وقاص نے ان سے بیان کیا کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا: رافع ! حضرت ابن عباس کے پاس اذْهَبْ يَا رَافِعُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ جاؤ اور ان سے پوچھو : اگر تو ہر اُس شخص کو سزادی فَقُلْ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ فَرِحَ جائے گی جو عطا کردہ نعمتوں پر اتر آیا اور چاہا کہ جو بِمَا أُوتِيَ وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا اُس نے نہیں کیا اس پر اس کی تعریف کی جائے تو لَمْ يَعْمَلْ مُعَذِّبًا لَنُعَذِّبَنَّ أَجْمَعُونَ یقینا ہم سبھی کو سزا دی جائے گی۔ حضرت ابن عباس فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ إِنَّمَا نے یہ سن کر کہا: اس آیت سے س آیت سے تمہارا کیا تعلق۔ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم واقعہ تو صرف یہ ہواتھا کہ ا ا ا ا ا م نے بہو کو بلایا اور ان سے کسی بات کا مطلب پوچھا، جو انہوں نے يَهُودَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ آپؐ سے چھپایا اور انہوں نے آپ کو کوئی اور إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَأَرَوْهُ أَنْ قَدْ بات بتائی۔ پھر یہ سمجھنے لگے کہ اب وہ آپ کے اسْتَحْمَدُوا إِلَيْهِ بِمَا أَخْبَرُوهُ عَنْهُ فِيمَا نزدیک قابل تعریف ہوگئے ہیں، اس لئے کہ سَأَلَهُمْ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ انہوں نے آپ کو وہ بات بتادی جو آپ نے ان سے پوچھی تھی اور جو حکم انہیں دیا گیا تھا اسے چھپا کر ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَ إِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ وہ خوش ہو گئے۔ پھر یہ واقعہ بیان کرکے) الَّذِينَ أُوتُوا الكتب (آل عمران: ۱۸۸) حضرت ابن عباس نے یہ آیت پڑھی: اور (اس كَذَلِكَ حَتَّى قَوْلِهِ يَفْرَحُونَ بِمَا آتَوُا وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے ان لوگوں سے جنہیں وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ۔ کتاب دی گئی ہے۔ ا ہے عہد لیا تھا کہ تم ضرور لوگوں کے پاس اس (کتاب) کو ظاہر کرو گے اور اسے چھپاؤ (آل عمران: ۱۸۹) گے نہیں مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اسے چھوڑ کر تھوڑی (س) قیمت لے لی، جو کچھ وہ لیتے ہیں وہ کیا ہی بُرا تو ان لوگوں کو جو اپنے کیے پر اتراتے ہیں اور جو (کام) انہوں نے نہیں کیا اس کی بابت (بھی) ہے۔ تو ان چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ۔