صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 159 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 159

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۵۹ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ میں سے بہت سے لوگ بعد اس کے کہ حق ان پر بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ خوب کھل چکا ہے اس حسد کی وجہ سے جو ان کی أَنفُسِهِم (البقرة: ١١٠) إِلَى آخِرِ الآيَةِ، اپنی ہی جانوں سے (پیدا ہوا) ہے چاہتے ہیں کہ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تمہارے ایمان لے آنے کے بعد تمہیں پھر کافر يَتَأَوَّلُ الْعَفْوَ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ حَتَّى بنا دیں۔ پس تم اس وقت تک کہ اللہ اپنے حکم کو نازل فرمائے انہیں معاف کرو اور (ان سے) أَذِنَ اللهُ فِيهِمْ فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللَّهُ در گزر کرو۔ اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا (پورا) قادر ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عفو کو ہی بِهِ صَنَادِيدَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ قَالَ ابْنُ أُبَيِّ مناسب سمجھتے تھے، جیسا کہ اللہ نے آپ کو حکم ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَّعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دیا تھا۔ آخر اللہ نے ان کو اجازت دے دی۔ وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقام فَبَايَعُوا الرَّسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پر (ان کا مقابلہ کیا اور اللہ نے اس لڑائی میں وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمُوا۔ کفار قریش کے بڑے بڑے سرغنے مار ڈالے تو (عبد الله ) بن ابی بن سلول اور جو اس کے ساتھ مشرک اور بت پرست تھے کہنے لگے: اب تو یہ سلسلہ شاندار ہو گیا ہے۔ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کر لی اور أطرافه ٢٩٨٧ ، ٥٦٦٣، ٥٩٦٤، ٦٢٠٧ - وہ مسلمان ہو گئے۔ تشريح : وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كثيرا : یہ آیت یوں شروع ہوتی ہے : لَتُبُلُونَ فِي أَمْوَالِكُمْ وَ انْفُسِكُمْ یعنی ضرور تم اپنے اموال اور اپنی جانوں کے معاملے میں آزمائے جاؤ گے اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقیناً یہ ایک بڑا باہمت کام ہے۔ عا روایت زیر باب میں دونوں باتیں بیان ہیں۔ آنحضر آنحضرت صلی اللہ علیم اور ضرت صلی علیم اور صحابہ کا صبر اور اس صبر صبر کا اہم نتیجہ ۔ کعب وصحابیات کی انحش ترین ہجو کیا کرتا تھا۔ (کتاب المغازی، تشریح باب (۱۵) الله بن اشرف آنحضرت صلی علیم اور صحابہ و صحابیات