صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 157
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۵ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ تھے جو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں تھے۔یہ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ قَالَ حَتَّى مَرَّ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔حضرت اسامہ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيَ ابْنُ کہتے تھے: چلتے چلتے آپ ایک ایسی مجلس کے پاس سَلُولَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ سے گزرے جس میں عبد اللہ بن اُبی بن سلول فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ تھا اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ عبد اللہ بن اُبی ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔اس مجلس میں کچھ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ مشرک یعنی بت پرست اور کچھ یہودی اور کچھ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ وَالْمُسْلِمِينَ وَفِي مسلمان ملے جلے لوگ تھے، اور مجلس میں حضرت الْمَجْلِسٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَلَمَّا عبد اللہ بن رواحہ بھی تھے۔جب اس جانور کی گرد غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ مجلس پر پڑی تو عبد اللہ بن اُبی نے اپنی چادر سے حَمَّرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيَ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ اپنی ناک ڈھانکی اور کہنے لگا: ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ رَسُولُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو السلام علیکم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ کہا اور ٹھہر گئے اور گدھے سے اترے۔آپ نے وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللهِ وَقَرَأَ ان کو اللہ کی طرف بلایا اور انہیں قرآن پڑھ کر عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَي سنایا۔عبد اللہ بن ابی بن سلول نے کہا: اے مرد ! ابْنُ سَلُولَ أَيُّهَا الْمَرْءُ إِنَّهُ لَا أَحْسَنَ بات جو تم کہتے ہو اس سے اچھی کوئی اور بات مِمَّا تَقُولُ إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ نہیں۔اگر یہ سچ ہے تو ہماری مجلس میں آکر اس سے تکلیف نہ دیا کرو۔اپنے ٹھکانے پر ہی واپس فِي مَجْلِسِنَا ارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ فَقَالَ عَبْدُ الله جاؤ۔پھر جو تمہارے پاس آئے اس سے یہ بیان کیا کرو۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے یہ سن کر بْنُ رَوَاحَةَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاغْشَنَا کہا: نہیں، یا رسول اللہ۔ہماری ان مجلسوں ہی میں بِهِ فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ آکر میں آپ پڑھ کر سنایا کریں۔ہمیں تو یہ بات فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ پسند ہے۔اس پر مسلمان، مشرک اور یہودی ایک وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَنَاوَرُونَ فَلَمْ دوسرے کو بُرا بھلا کہنے لگے۔قریب تھا کہ وہ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک دوسرے پر حملہ کرتے، مگر نبی صلی کم جوش ،