صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 156
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۵۶ -۲۵ - کتاب التفسير / آل عمران ريح۔وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا أَللهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ : اور جو لوگ اس مال کے دینے) میں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے بخل کرتے ہیں۔وہ اپنے لئے (اس کو) ہر گز اچھانہ سمجھیں (اچھا نہیں) بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے جن مالوں میں وہ بخل سے کام لیتے ہیں قیامت کے دن یقینا ان کا طوق بنایا جائے گا اور ان کے گلوں میں ڈالا جائے گا) اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے اور جو کچھ ) تم کرتے ہو اللہ اس سے آگاہ ہے۔اس آیت سے متعلق علماء میں دو طرح کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ایک یہ کہ طوق معنوی ہے یا حسی۔ابو عبیدہ کی شرح کا حوالہ دیا گیا ہے کہ طوق کا استعمال مجازی ہے اور اس کا مفہوم يُلْزَمُونَ ہے کہ بخل کے نتائج لا زنا بھگتیں گے۔دوسر اختلاف یہ ہے کہ کن کے متعلق یہ اندار ہے۔بعض کا خیال ہے کہ زکوۃ وصدقات نہ دینے والوں سے متعلق۔مفسرین کا اس امر پر اتفاق ہے۔بعض کا خیال ہے کہ جہاد کے موقع پر نہ خرچ کرنے والوں کے متعلق اور ابن جریج اور زجاج نے کہا کہ یہودیوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔تورات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو اوصاف بیان ہوئے ہیں وہ یہود چھپاتے تھے اور بخل سے کام لیتے تھے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۹۰،۲۸۹) ہر قسم کا بخل کرنے والوں پر یہ آیت چسپاں ہو سکتی ہے۔روایت زیر باب سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کے نزدیک اس کے مصداق زکوۃ نہ دینے والے ہیں، جو ارکان اسلام سے ہے۔باب ۱۵ : وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا (آل عمران: ۱۸۷) اللہ تعالی کا فرمانا: ) اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے (بھی) جو مشرک ہیں بہت دکھ دینے والا کلام سنو گے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا ٤٥٦٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۴۵۶۶ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔انہوں عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی کملی ڈالی ہوئی تھی حِمَارٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ وَأَرْدَفَ اور آپ نے حضرت اسامہ بن زید کو اپنے پیچھے أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ بٹھا لیا۔حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کو جار ہے (مجاز القرآن لابي عبيدة، تفسير سورة آل عمران آیت وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ ، جزء اول صفحه ۱۱۰)