صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 155
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۵۵ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران طَوَّقْتُهُ بِطَوْقِ۔تیرے قول طوقْتُهُ بِطَوق کہنے کی طرح ہے یعنی میں نے اس کو طوق پہنایا۔٤٥٦٥ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ :۴۵۶۵ عبد اللہ بن منیر نے مجھ سے بیان کیا۔سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ انہوں نے ابو نضر (ہاشم بن قاسم) سے سنا کہ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ عبد الرحمن نے جو کہ عبد اللہ بن دینار کے بیٹے عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ہیں ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے باپ نے ابو صالح سے ، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ زَكَاتَهُ مُثْلَ لَهُ مَالُهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ نے مال دیا ہو اور پھر وہ اس کی زکوۃ نہ دے تو اس زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَأْخُذُ کا مال اس کے سامنے قیامت کے دن گنجے سانپ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ يَقُولُ أَنَا کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔جس کی آنکھوں پر مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ دو کالے نقطے ہوں گے۔وہ اپنی دونوں باچھوں وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا الهُمُ سے پکڑ کر کہے گا: میں تمہارا مال ہوں، میں تمہارا خزانہ ہوں۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: اور جو اللهُ مِنْ فَضْلِهِ إِلَى آخِرِ الآيَةِ۔(آل عمران: ۱۸۱) لوگ اس مال کے دینے) میں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے بخل کرتے ہیں۔وہ اپنے لئے (اس کو) ہر گز اچھا نہ سمجھیں (اچھا نہیں) بلکہ وہ ان کے لئے بڑا ہے جن مالوں میں وہ بخل سے کام لیتے ہیں قیامت کے دن یقیناً ان کا طوق بنایا جائے گا ( اور ان کے گلوں میں ڈالا جائے گا) اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے اور جو (کچھ) تم کرتے ہو اللہ اس سے آگاہ ہے۔أطرافه: ١٤٠٣، ٤٦٥٩ ٦٩٥٧-