صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 154
صحیح البخاری جلد ۱۰ اولد ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران تشريح : الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوهُمْ : یہ مذکورہ بالا آیت کے معاً بعد ہے اور پوری آیت یہ ہے : الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران: ۱۷۴) یعنی ( یہ ) وہ (لوگ ہیں) جنہیں دشمنوں نے کہا تھا کہ لوگوں نے تمہارے خلاف (لشکر) جمع کیا ہے۔ اس لئے تم ان سے ڈرو۔ تو اس (بات) نے ان کے ایمان کو اور بھی بڑھا دیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ (کی ذات) کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب المغازی، تشریح باب ۲۹ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ : قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے ان کے خلاف قتل یا جلانے کی تدبیر کی تھی جو قدیم زمانہ میں مرتد کی سزا تھی۔ یورپی قوموں میں جلانا تھا اور مشرقی اقوام میں قتل یا سنگساری۔ فرماتا ہے : فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرْقُوهُ فَأَنْجُهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ (العنکبوت: ۲۵) سورۃ الانبیاء میں بھی ہے : وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْتُهُمُ الْأَخْسَرِينَ (الانبیاء: اے) اور انہوں نے اس کی نسبت تدبیر کی اور ہم نے انہیں ناکام کر دیا۔ آیا مخالفت کی آگ مراد ہے یا چتا تیار کی گئی، جیسا کہ ہندؤوں میں بھی رواج تھا، جسے لارڈ ہینگ نے حکما منسوخ کیا۔ دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ آگ اس کے حکم سے ٹھنڈی ہو جائے۔ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے اور وہی کار ساز ہوتا ہے۔ ان کے دل و دماغ پر حسبي اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ کا کلمہ عالم بالا سے نازل ہوتا ہے اور ان کا رواں رواں اس کے ورد میں خود بخود مشغول رہتا ہے۔ قدرت الہی کا یہ مشاہدہ ہمارا اپنا بھی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تاویلات رقیقہ کے وساوس کو دور کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ اگر آپ کے دشمن آپ کو سچ مچ چتا میں ڈالیں تو اللہ تعالی آپ کو بھی نجات دے گا اور آپ کو اس بارہ میں ان الفاظ میں وحی ہوئی: آگ سے ہمیں مت ڈرا۔ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ باب ١٤ مسیح موعود (تذکره صفحه (۳۲۴) وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا اللهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ (آل عمران: ۱۸۱) الْآيَةَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور جو لوگ اس مال کے دینے) میں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے بخل کرتے ہیں وہ یہ ہر گز نہ سمجھیں سَيْطَوَّقُونَ (آل عمران : ۱۸۱) كَقَوْلِكَ سَيُطَوَقُونَ ( یقینا انہیں طوق پہنایا جائے گا ) ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : "پس اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا اسے قتل کر دو یا جلا دو پس اللہ نے اسے آگ سے نجات بخشی۔“