صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 152
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۵۲ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران تشريح : آمَنَةً نَعَاسًا: یہ فقرہ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۱۵۵ میں آیت نمبر ۱۵۵ میں آیا ہے۔ راوی ابو یعقوب بغدادی ملقب لؤلؤ یا یو یو امام ابن حجر کے نزدیک ثقہ ہیں۔ صحیح بخاری میں ان کی دو روایات ہیں۔ باب ۱۲ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۸۷) الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ (آل عمران: ۱۷۳) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) جن لوگوں نے اللہ اور رسول کا حکم اپنے زخمی ہونے کے بعد ( بھی ) قبول کیا ان میں سے ان کے لئے جنہوں نے اچھی طرح اپنا فرض ادا کیا ہے اور تقویٰ اختیار کیا ہے بڑا اجر ہے الْقَرْحُ (آل عمران: ۱۷۳) الْجِرَاحُ الْقَرْحُ کے معنی ہیں زخم۔ اسْتَجَابُوا کے معنی اسْتَجَابُوا (آل عمران: ۱۷۳) أَجَابُوا ۔ ہیں مانا۔ يَسْتَجِيبُ کے معنی ہیں وہ مانتا ہے۔ يستجيب (الانعام : ٣٧) يُجِيبُ ۔ تشريح : الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ : اس باب کے تحت کوئی روایت نہیں۔ عنوان باب ہی میں القدح کے معنی زخم دئے گئے ہیں۔ اہل کوفہ فرح پڑھتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے قرح پڑھا ہے۔ اخفش کے نزدیک ضمہ سے اہل حجاز پڑھتے ہیں اور ان کے ماسوا فتح کے ساتھ۔ امام راغب نے فتح سے قرح زخم کا ظاہری اثر اور ضمہ سے قرح جسم کے اندر کا زخم مراد لیا ہے۔ اردو میں گھاؤ کہتے ہیں۔ اسْتَجَابُوا بمعنی أَجَابُوا ابو عبیدہ نے کئے ہیں۔ عرب کہتے ہیں: اسْتَجَبْتُكَ أَيْ أَجَبْتُكَ میں نے آپ کو جواب دیا۔ یعنی آپ کا فرمان مان لیا۔ ابن حجر نے کعب غنوی کا یہ شعر بطور حوالہ پیش کیا ہے : وَدَاعِ دَعَا يَا مَنْ يُجِيبُ إِلَى النَّدَى فَلَمْ يَسْتَجِبْهُ عِنْدَ ذَاكَ مُجِيْبُ اور پکارنے والے نے پکارا، کون ہے جو اپکار کا جواب دے؟ سو کسی جواب دینے والے نے اس وقت جواب نہیں دیا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۸۷) آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مومن اور اعمال صالحہ بجالانے والے اللہ کا ارشاد قبول کرتے ہیں اور عملاً جواب دیتے ہیں اور زخم ان کے لئے مانع نہیں ہوتے۔ اس تعلق میں کتاب المغازی، باب ۲۵ بھی ملاحظہ ہو ۔