صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 151 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 151

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۵۱ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران أَصَابَكُمْ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (آل عمران: ۱۵۴) یعنی جب تم دوڑے چلے جارہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتے تھے حالانکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی جماعت میں (کھڑا) تمہیں بلا رہا تھا۔ اس پر اس نے تمہیں ایک غم کے بدلہ میں ایک اور غم دیا تا کہ جو کچھ تم سے جاتا رہا ہے اور ج اور جو ( دکھ) تمہیں پہنچا ہے۔ اس پر تم غمگین نہ ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔ ایک غم صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا تھا کہ انہوں نے میدان جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدی ہدایت ملحوظ نہیں رکھی اور اپنا مورچہ چھوڑ کر پہاڑی سے نیچے اتر آئے تا بھاگتے دشمن کا تعاقب کریں اور غنیمت حاصل کریں اور دوسرا غم شکست کا جو بطور سزا انہیں ملا کہ انہوں نے نافرمانی کی جس کی سزا اُسی وقت پالی اور ان کے توبہ کرنے پر ان سے در گزر ہوا۔ اس آیت کا تعلق غزوہ احد سے ہے۔ یہاں لفظ اخر یکم کی شرح مقصود ہے ، جو ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ اور آخر کی مونث ہے نہ کہ آخر کی جو آخری ہے، مراد پچھلی صف میں۔ احدى الْحُسْنَيَيْنِ سورہ توبہ کی آیت ۵۲ میں آیا ہے۔ یہاں ذکر کرنے سے یہ مقصود ہے کہ ہے کہ غزوہ احد میں صحابہ کرام کو دونوں قسم کے ثواب حاصل ہوئے۔ حضرت براء بن عازب کی مذکورہ بالا روایت غزوہ احد کے تعلق میں کتاب المغازی زیر باب ۱۷ مع تفصیلی واقعات گزر چکی ہے۔ باب ۱۱ : آمَنَةً نُعَاسًا (آل عمران: ١٥٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) امن کو جو اونگھ کی صورت میں تھا ٤٥٦٢ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ ۴۵۶۲: اسحاق بن ابراہیم بن عبدالرحمن ابو إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو يَعْقُوبَ يعقوب (بغدادی) نے مجھے بتایا کہ حسین بن محمد حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ أَبَا انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ (انہوں نے طَلْحَةَ قَالَ غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ کہا: حضرت انس نے ہم سے بیان کیا کہ فِي مَصَافِنَا يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَجَعَلَ حضرت ابوطلحہ کہتے تھے: ہم پر اونگھ طاری سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذْهُ ہو گئی جبکہ ہم اُحد کے دن اپنی اپنی جگہ صفوں میں تھے۔ کہتے تھے: میری تلوار میرے ہاتھ وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ۔ طرفه ٤٠٦٨۔ سے گرنے لگی۔ میں اس کو پکڑتا اور وہ گر پڑتی اور میں پھر اس کو پکڑ لیتا۔ ا (مجاز القرآن، تفسیر سورة آل عمران، آیت وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي اخْرُ بكُمْ ، جزء اول صفحه ۱۰۵)