صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 150
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۵۰ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران کے زخمی ہونے اور دانت ٹوٹنے پر آپ کا ارشاد كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدُعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ (وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جنہوں نے اپنے نبی سے ایسا سلوک کیا جبکہ وہ اُنہیں اُن کے رب کی طرف بلاتا ہے) نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۸۶) اس سے بھی ظاہر ہے کہ یہ ان کا قیاس ہے اور تطبیق آیت کی ایک مثال دی ہے۔سیاق آیات سے اصل موضوع او پر واضح کیا جا چکا ہے۔بَاب ١٠: وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أَخْرِيكُمْ (ال عمران: ١٥٤) حالانکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی جماعت میں (کھڑا) تمہیں بلا رہا تھا وَهُوَ تَأْنِيتُ آخِرَكُمْ۔وَقَالَ ابْنُ يه (أَخْرُكُمْ) آخرِكُمْ کی مؤنث ہے اور عَبَّاسِ إِحدَى الْحُسْنَيَيْنِ (التوبة: ٥٢) حضرت ابن عباس نے کہا: (ان آیات میں) فَتْحًا أَوْ شَهَادَةً۔جو إحدى الْحُسْنَيَيْنِ ہے، اس سے مراد فتح یا شہادت ہے۔٤٥٦١ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ خَالِدٍ :۴۵۶۱ عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ابو اسحاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عَنْهُمَا قَالَ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ سنا کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ کے دن پیادہ فوج پر حضرت عبد اللہ بن جبیر کو سردار مقرر کیا اور یہ شکست کھا کر بھاگے چلے عَبْدَ اللهِ بْنَ جُبَيْرٍ وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ آئے۔تو یہ وہ ہے (جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ أُخْرَاهُمْ وَلَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي رسول ان کے پچھلے حصہ میں (کھڑا) انہیں بلارہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوائے بارہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا۔آدمیوں کے کوئی باقی نہ رہا تھا۔أطرافه ٣٠٣٩، ٣٩٨٦، ٤٠٤ ٤٠٦٧ - ريح : وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أَخْرَكُمْ : پوری آیت یہ ہے: إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلُوْنَ عَلَى شريح احَدٍ وَ الرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أَخْرِيكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَنَّا بِغَمْ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا۔(مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب غزوة احد ) (مسند احمد بن حنبل، مسند المکثرین، مسند انس بن مالك، جزء۳ صفحه ۹۹)