صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 149
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۴۹ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران ہار مدینہ میں آکر مسلمان ہو گیا۔(الإصابة في تمييز الصحابة، حرف الهاء، هبار بن الأسود، جزء ۶ صفحه ۴۱۲) اسے یقین تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے انتقام نہیں لیں گے۔یہی واقعہ ہند کا ہے جس نے جنگ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا۔مگر اسلام قبول کرنے پر آپ نے عفو سے کام لیا۔(اسد الغابۃ، حرف الهاء ، هند بنت عتبة جزء صفحه (۲۸) وحشی قاتل حمزہ سے بھی یہی سلوک ہوا۔( بخاری کتاب المغازی، باب ۲۳ روایت نمبر ۴۰۷۲) ایک یہودی اپنے قرضہ کے مطالبہ میں آپ سے درشت کلامی سے پیش آیا اور حضرت عمر و دیگر نے اس سے سخت کلامی کی۔آپ نے انہیں روکا اور فرمایا: عمر ! مجھے حسن ادائیگی کے لئے اور زید کو حسن تقاضا کا مشورہ دیتے اور زید سے فرمایا کہ ابھی تو دو تین دن باقی ہیں۔مگر حضرت عمر کی وجہ سے زید کو ہیں صاع زائد دلوائے کہ عمر نے اس کو بُرا بھلا کہا ہے۔ایسے شفیق و کریم سے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ بد دعائیں کیا کرتا تھا آپ کی دعاؤں کی حقیقت نہ جاننے کے مترادف ہے۔آپ کی دشمنوں کے خلاف دعائیں دراصل اُن کے حق میں ہی تھیں۔کیونکہ اُن کی لمبی مہلت اُن کے نامہ اعمال کی سیاہی کو بڑھانے اور بہتوں کی گمراہی کا موجب بن رہی تھی، اس لیے اُن کی ہلاکت خود اُن کے لیے بھی اور دوسرے کے لیے بھی خیر کو اپنے دامن میں لیے ہوئے تھی۔آپ نے تو بد دعا سے روکا ہے۔غرض کیس لك من الأمر شئ جو غزوہ احد کے تعلق میں نازل ہوئی ہے اس کے تحت مذکورہ بالا روایت (نمبر ۴۵۵۹) کے نقل کرنے سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ملا یہ کلم نے دعا و بد دعا میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کیا ہے۔اس آیت کے نزول سے صرف تطبیق مراد ہے۔کیونکہ رعل و ذکوان و عصیہ کا واقعہ ظلم غزوہ احد کے بعد ہوا تھا۔(دیکھئے کتاب المغازی، تشریح باب ۲۸) امام ابن حجر نے اسی امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مذکورہ بالا آیت کا نزول واقعہ رعل سے بہت پہلے غزوہ احد کے تعلق میں ہو اتھا اور انہوں نے اس مشکل کا حل یہ کیا ہے کہ الفاظ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شی (آل عمران : ۱۲۹) یعنی تیر ا اس معاملہ میں کچھ (دخل) نہیں، منقطع ( الگ) اور از قبیل ادراج ضمنی ہے۔مذکورہ بالا روایت زہری کی روایت کا حصہ نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۸۶) امام مسلم نے اس مشکل کا حل کیا ہے اور بتایا ہے کہ زہری نے بسند یونس کہا کہ ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد آنحضرت صلی ا ہم نے بد کے خلاف دعا ترک کر دی تھی۔سے سو اس خبر کی صحت محل شبہ ہے۔امام مسلم و امام احمد نے غزوہ احد میں آپ (المستدرك، كتاب البيوع، وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، جزء ۲ صفحه ۳۷) (المستدرك، كتاب مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ الله ، ذِكْرُ إِسْلَامِ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ، جزء ۳ صفحه ۷۰۰) (بخاری، کتاب الادب، باب لَمْ يَكُن النَّبِي فَاحِشَاً وَلَا مُتَفَاحِشًا، روایت نمبر ۲۰۳۰) (ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله ، باب ما جاء فى اللعن والطعن ) (مسلم، کتاب المساجد، باب استعجاب القنوت في جميع الصلاة إذا نزلت بالمسلمين نازلة)