صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 148
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۴۸ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران مذہب کے بارے میں جبر و اکراہ اور درشتی و سختی سے کام لے۔بدر واحد کی جنگیں الہی تصرف سے ہو ئیں تا ظالم سزا پائیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کا اس سے قطعا کوئی تعلق نہ تھا۔زمین و آسمانوں کے مالک نے دیکھا کہ اس کے بندے حد سے بڑھ گئے ہیں، اس لئے ان کی تباہی کا سامان ان کے اپنے ہاتھوں سے پیدا کر دیا۔یہ مضمون ہے باب 9 کا اور اس تعلق میں جو روایت نقل کی گئی ہے، اس سے بھی یہی پایا جاتا ہے۔مگر ظلم سے نجات پانے کے لئے دعاو گریہ وزاری منع نہیں۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الاذان باب ۱۲۶ مع تشریح۔اللَّهُمَّ أَنْج الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاش بن أبي ربيعة : اول الذكر وليد بن مغیرہ کے بیٹے اور حضرت خالد بن ولید کے بھائی ہیں۔ثانی الذکر ان کے چچازاد ہیں۔غزوہ بدر میں کفار مکہ کی صف میں شریک تھے شکست کھانے پر اسیران جنگ میں تھے فدیہ دے کر آزاد ہوئے اور اپنے اسلام کا اعلان کیا۔جس پر قریش مکہ قید کئے گئے اور حضرت سلمہ اور عیاشی بھی در پر وہ مسلمان تھے۔(رضی اللہ عنہم ) مؤخر الذکر دونوں کا حضرت ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بحالت قید سمجھوتہ ہوا اور وہ قید سے ان کے ساتھ بھاگ کر مدینہ منورہ پہنچے جہاں حضرت ولید جلدی فوت ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شہید کہا۔بحالت قید انہیں دکھ دئے گئے تا اسلام سے پھر جائیں۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۸۵) عنه امام ابن حجر نے حافظ ابو بکر بن زیاد نیشا پوری کے حوالہ سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں پندرہ روز رکوع کے بعد حضرت ولید رضی اللہ عنہ کی نجات کے لئے دعا فرماتے رہے۔عید کی صبح کو دعا نہیں کی۔حضرت عمرؓ کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ وہ مع اپنے ساتھیوں کے جو قید میں تھے مدینہ میں پہنچ گئے ہیں۔ان کے دونوں ساتھی چچازاد بھائی تھے۔حضرت سلمہ بن ہشام بن مغیرہ ابو جہل کے بھائی ہیں۔سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ اسلام قبول کرنے والوں میں سے صف اول کے مومنین میں سے تھے۔دو ہجرتیں کی ہیں۔ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ۔ابو جہل نے انہیں دھوکہ دے کر حبشہ سے مکہ بلوایا اور وہاں قید کر لیا۔پھر تینوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے نجات پائی۔حضرت سلمہ بن ہشام رضی اللہ ء حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران ۱۴ ھ کو فوت ہوئے۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۲۸۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے قنوت میں جہاں نیک کے حق میں دعا کی ، وہاں بد کے خلاف بھی دعا کی۔ظالم اپنے انتہائی ظلم و ستم کی وجہ سے اس کے مستحق تھے۔دعا و بد دعا کا تعلق حالات سے ہے۔واقعہ طائف میں آپ کو پتھروں سے لہو لہان کیا گیا اور اس حالت میں آپ نے ان کے لئے تباہی نہیں چاہی، بلکہ ہدایت کی خواہش کی۔یہ مشہور واقعہ ہے۔ہبار بن اسود اور ہند زوجہ ابو سفیان کا واقعہ تاریخ اسلامی میں مشہور ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب مکہ سے مدینہ کے لئے اونٹ پر سوار ہو کر جارہی تھیں ہبار بن اسود نے مع چند اوباشوں کے ان کا تعاقب کیا اور راستے میں جالیا اور نیزے سے اونٹ کو جو مار اوہ بد کا، جس سے آپ کا ہو درج گر پڑا۔حاملہ تھیں اسقاط ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی سے حال سن کر اسے سزا دینے کا اعلان فرمایا۔مگر یہی