صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 147
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۴۷ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ رسول الله صل الم جب کسی کے خلاف دعا یا کسی عَلَى أَحَدٍ أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ کے لئے دعا کا ارادہ کرتے تو بسا اوقات رکوع کے الرُّكُوعِ فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ بعد جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُم رَبَّنَا لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الحَمدُ (یعنی سن لی اللہ نے اس شخص کی اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ جس نے اس کی حمد کی۔اے اللہ اے ہمارے ربت بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاش بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں۔) کہہ چکتے تو بحالت قیام دعا کرتے ، کہتے : اے اللہ ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔اے اللہ ! مضر کو سختی سے لتاڑ اور ان کے اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ يَجْهَرُ بِذَلِكَ وَكَانَ يَقُولُ فِي بَعْضٍ صَلَاتِهِ سالوں کو یوسف کے سالوں کی طرح بنا۔یہ دعا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ اللَّهُمَّ الْعَنْ فَلَانًا بلند آواز سے کرتے اور اپنی کسی نماز میں یعنی صبح وَفُلَانًا لِأَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ حَتَّى أَنْزَلَ کی نماز میں عرب کے بعض قبیلوں کا نام لے کر الله لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَى ءُ (ال) یوں کہتے تھے : اے اللہ ! فلاں اور فلاں قبیلہ کو عمران: ۱۲۹) الْآيَةَ۔رحمت سے دور رکھیو۔آخر اللہ نے یہ آیت نازل کی: تیرا اس معاملہ میں کچھ (دخل) نہیں۔أطرافه: ۷۹۷، ۸۰، ۱۰۰۶، ۲۹۳۲، ٣٣٨٦، ٤٥٩٨، ٦٢٠٠، ٦٣٩٣ ، ٦٩٤٠ - شريح : لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْ ءُ : معونہ آیت بھی مذکورہ بالا روایت سے جو غلط مفہوم لیا گیا ہے اس کو رڈ کرنے کی غرض سے لائی گئی ہے۔پوری آیت یہ ہے: لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ أوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظُلِمُونَ (آل عمران : ۱۲۹) اس بات سے تیرا کوئی تعلق نہیں۔چاہے تو وہ انہیں عفو در حم سے معاف کرے یا انہیں سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔اس کے بعد فرماتا ہے : وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمواتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران: ۱۳۰) اللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔جسے چاہتا ہے مغفرت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ بہت ہی مغفرت کرنے والا ہے جو عمل صالح کرنے والے کو بار بار اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔جزا و سزا کے تعلق میں یہ آیت بار بار دہرائی گئی ہے کہ بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اس نے پاداش اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور عقیدے و عمل سے متعلق اس کا علم حاوی ہے۔انسان کو تاہ نظر ہے اس لئے اس کا حق نہیں کہ