صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 144 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 144

حيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ : پوری آیت یہ ہے: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَ لَوْ أَمَنَ أَهْلُ الْكِتَبِ لكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ - مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ (آل عمران: ۱۱۱) یعنی تم (سب سے) بہتر جماعت ہو جسے لوگوں کے (فائدہ کے) لئے پیدا کیا گیا ہے۔تم نیکی کی ہدایت کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ان میں سے بعض مومن بھی ہیں اور اکثران میں سے نا فرمان ہیں۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت جو یہاں معنعن ہے سے پایا جاتا ہے کہ ہم بہتر امت اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جو نہ صرف خود راست روی اختیار کریں بلکہ لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بنائیں۔اس روایت کا یہ مفہوم نہیں کہ لوگوں کو زبر دستی اسلام میں داخل کریں، اسلام میں یہ جائز نہیں۔امت اسلامیہ کے وجود کی غرض وغایت کتنی اعلیٰ ہے اور اب اس امت کا کیا حال ہے۔اس مقصد اعلیٰ سے موازنہ تو کریں۔مجددالف ثانی کی نسبت ان کی سوانح میں لکھا ہے کہ جب کسی نے عرض کی کہ فرمائیں تو میں آپ کی بیعت کرلوں؟ فرمایا: اگر میں بیعت کرنے کے لئے تمہیں کہوں تو یہ فرمانا بھی اکراہ کی ایک صورت ہوئی جو ارشاد باری تعالى لا إكراه في الدِّينِ (البقرۃ: ۲۵۷) یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر (جائز) نہیں ، کے خلاف ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی نظر سے یہ آیت اور جہل نہ تھی۔فِي السَّلاسِلِ فِي أَعْنَاقِهِمْ جملہ حالیہ ہے۔یعنی تبلیغ کے ذریعہ سے لوگوں کو ایسی حالت میں لاتے ہو کہ رسم ورواج اور عادات بد کی زنجیریں ان کی گردن میں ہوتی ہیں اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور وہ زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں۔اسی مفہوم میں اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے: الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِى الأهى الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّواةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهُهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيْتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف: ۱۵۸) وہ (لوگ) جو ہمارے اس رسول کی اتباع کرتے ہیں جو نبی ہے اور امی ہے جس کا ذکر تورات اور انجیل میں ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہے۔وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے اور سب پاک چیزیں ان پر حلال کرتا ہے اور سب بُری چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے بوجھ (جو اُن پر لادے ہوئے تھے ) اور طوق جو اُن کے گلوں میں ڈالے ہوئے تھے وہ ان سے دور کرتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی سورۃ آل عمران کی مذکورہ بالا آیت سے متعلق تفسیر سورۃ اعراف کی تفسیر کے مفہوم ہی میں ہے۔ان کے الفاظ کے یہ معنی قطعا نہیں کہ لوگوں کو جبراً اسلام میں داخل کرنے کی وجہ سے امت محمدیہ بہتر امت ہے۔صحابہ کرام نے کبھی ایسا نہیں کیا۔بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے جو خیر الامم تھے مذہبی جبر وا کر اہ کا مذموم طریق دنیا سے یکسر مٹا دیا۔عَلَيْهِمْ صَلَوَاتُ اللهِ