صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 143
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۴۳ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران قوموں میں رواج ہے اور عیسائی خنزیر خور بھی ہیں اور دونوں قوموں میں مرد و عورت کے در میان آزادانہ اختلاط ہے اس لئے قدیم سے زنا کی کثرت رہی ہے اور اب تو یہ کثرت حد تصور سے بھی متجاوز ہے۔زنا سے متعلق تورات کا مذکورہ بالا حکم کالعدم ہے۔عصمت فروشی، فحاشی اور ہم جنسیت کی کوئی سزا نہیں۔عصمت دری کی سزا جرمانہ ہے۔جو خاوند کو دلایا جاتا ہے۔یہ جنس لطیف کی قدر ہے ؟ حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک فیصلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانے میں بھی زنا بکثرت تھا۔آپ کے پاس ایک زانیہ عورت لائی گئی کہ سنگسار کی جائے ، آپ نے فرمایا : جو معصوم ہو وہ رحم کرے۔یہ سن کر سب چلے گئے۔(یوحنا باب ۱۸ تا ۱۱) روایت نمبر ۴۵۵۶ کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔جس کے راوی مسلمہ طور پر صادق ہیں۔کن تنَالُوا البر کے تعلق میں کھانے کی حلت و حرمت کا مضمون بے جوڑ نہیں۔کھانے کی شہوت اور پیٹ کا دھندا انسان کو نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے۔آل عمران آیت نمبر ۹۶ میں ملت ابراہیم کی پیروی کا حکم ہے جو حنیف تھا۔یعنی اپنی فرمانبرداری میں یکسو۔وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : اس میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "جو چیز قبلۂ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بت ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۵۰) بَاب : كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: ۱۱۱) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) تم (سب سے) بہتر جماعت ہو جسے لوگوں کے (فائدہ کے) لئے پیدا کیا گیا ہے ٤٥٥٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۴۵۵۷ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہمیں بتایا۔عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَّيْسَرَةَ عَنْ أَبِي انہوں نے سفیان (ثوری) سے ، سفیان نے میسرہ حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ) بن عمار اشجعی) سے، میسرہ نے ابوحازم سے، كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل ابو حازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عمران: ۱۱۱) قَالَ خَيْرَ النَّاسِ لِلنَّاسِ روایت کی کہ انہوں نے كُنتُمْ خَيْرَ أخْرِجَتْ لِلنَّاس کی تفسیر سے متعلق کہا: تم تَأْتُونَ بِهِمْ فِي السَّلَاسِلِ فِي أَعْنَاقِهِمْ لوگوں کے لئے سب سے بہتر ہو۔تم لوگوں کو لاتے ہو کہ ان کی گردنوں میں زنجیریں پڑی ہوتی حَتَّى يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ۔طرفه: ۳۰۱۰ - ہیں اور پھر وہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔له ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع "تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔“ أمَّةٍ