صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 145 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 145

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۴۵ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران بَاب :۸ : اذْهَمَّتْ طَابِفَتْنِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا (آل عمران: ۱۲۳) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) ( پھر اس وقت کو بھی یاد کر ) جب (کہ ان کے حالات کو دیکھ کر) تم میں سے دو گروہ بزدلی دکھانے پر تیار ہو گئے تھے ٤٥٥٨ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۴۵۵۸ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عَمْرُو کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہتے سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ تھے: عمرو بن دینار) نے کہا: میں نے حضرت عَنْهُمَا يَقُولُ فِينَا نَزَلَتْ اِذْهَمَتْ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے : ا يفَتنِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللهُ وَلِيُّهُمَا ہمارے متعلق آیت اذْهَمَّتْ ظَابِفَيْنِ مِنْكُمُ اَنْ تَفْشَلَا وَاللهُ وَلِيُّهُمَا نازل ہوئی۔کہتے - (آل عمران: ۱۲۳) قَالَ نَحْنُ الطَّائِفَتَانِ تھے : ہم دو گر وہ تھے ، بنو حارثہ اور بنو سلمہ اور ہم گروہ بَنُو حَارِثَةَ وَبَنُو سَلِمَةَ وَمَا نُحِبُّ، یہ پسند نہیں کرتے۔اور سفیان نے ایک دفعہ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَمَا يَسُرُّنِي أَنَّهَا لَمْ یوں کہا اور مجھے اس سے خوشی نہیں کہ یہ آیت نہ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا۔نازل ہوتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ان دونوں کا مددگار ہے۔طرفة: ٤٠٥١ - تشريح۔إذْ هَمَتْ طَابِفَتَنِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا: پوری آیت ہے: إِذْ هَنَتْ قَابِفَتِنِ مِنْكُمْ أَنْ : تفشَلَا وَاللهُ وَلِيُّهُمَا ، وَعَلَى الله فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (آل عمران: ۱۲۳) یعنی ( یاد کرو وہ وقت) جب تم میں سے دو گروہ کمزوری دکھانے لگے تھے۔حالانکہ اللہ ان کا مدد گار تھا اور مومنوں کو تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔آیات کے سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ یہ اُحد کا واقعہ ہے۔کیونکہ اس سے اگلی آیت میں یہ ذکر ہے کہ وَلَقَد نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ أَنْتُم اَذِلَّةٌ (آل عمران: ۱۲۴) یعنی (اس سے پہلے ) بدر کی جنگ میں جبکہ تم نہایت کمزور تھے۔اور مذہبی دشمنوں کے ظلم وستم سے وطن سے بے وطن ہوئے اور بے وطنی میں تمہارا پیچھا کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری خارق عادت طور سے مدد کی۔اس باب سے امام بخاری دکھانا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام خود جبر و اکراہ کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔چہ جائیکہ ان سے متعلق مذکورہ بالا روایت حضرت ابو ہریرہ سے یہ سمجھا جائے کہ گویاوہ لوگوں کی گردنوں میں زنجیریں ڈال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے اور اسلام میں جبراً داخل کئے جاتے تھے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " جب تم میں سے دو گروہوں نے ارادہ کیا کہ وہ بزدلی دکھائیں حالانکہ تم دو اللہ دونوں کا ولی تھا۔“