صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 142
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۴۲ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران بِهِمَا فَرُجِمَا قَرِيبًا مِنْ حَيْثُ مَوْضِعُ سے کھینچ کر ہٹایا اور کہا: یہ کیا ہے؟ جب انہوں الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ قَالَ فَرَأَيْتُ نے دیکھا، کہنے لگے : یہ رجم کی آیت ہے۔چنانچہ صَاحِبَهَا يَجْنَأُ عَلَيْهَا يَقِيهَا الْحِجَارَةَ آپ نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا اور وہ دونوں اس جگہ کے قریب رجم کئے گئے جہاں مسجد کے پاس جنازے رکھے جاتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمررؓ کہتے تھے: میں نے اس عورت کے یار کو دیکھا کہ وہ اس پر جھکا جاتا تھا اور اس کو پتھروں سے بچاتا تھا۔أطرافه: ۱۳۲۹، ۳۶۳۵، ٦٨١٩، ٦٨٤١، ٧٣٣٢، ٧٥٤٣۔ح : قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَيةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُم صدقین: یہ آیت سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 7 ۹۴ ہے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ کے بعد فرماتا ہے: كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ جلا لِبَنِي إِسْرَاءِيْلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَاءِ يْلْ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَلَ التَّوْرية - قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرِيةِ فَاتْلُوهَا إن كُنتُم صُدِقِينَ ) ( آل عمران: ۹۴) زیر باب روایت میں رجم کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ یہودیوں نے اس پر عمل ترک کر دیا تھا اور ظاہر یہ کیا جاتا تھا کہ تو رات میں زنا کی یہ سزا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب شکایت آئی تو چونکہ میثاق مدینہ میں صراحت تھی کہ معاہدہ میں شریک ہونے والے اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں گے اس لئے آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ تورات کی تعزیرات کے مطابق دونوں کو رجم کی سزادی جائے۔غور کرنے پر تورات کا حکم دکھایا گیا اور نافذ ہوا۔اس کے لئے دیکھئے کتاب استثناء باب ۲۲: ۲۲ تا ۲۹۔زنا کی سزا تین قسم کی ہے: ۱) شوہر والی عورت سے زنا کرنے والا ہو تو زانی اور زانیہ دونوں مارے جائیں۔(۲) کنواری لڑکی جس کی نسبت ہو چکی ہے۔اگر اس سے زنا ہو تو مرد اور لڑکی دونوں سنگسار کئے جائیں۔لیکن اگر ایسی لڑکی سے باہر کھیت یا میدان میں جبر از نا کیا گیا ہو تو فقط زانی مارا جائے گا۔۳) غیر منسوبہ کنواری لڑکی سے زنا کرنے والا لڑکی کے باپ کو پچاس مثقال چاندی دے گا اور دونوں کا نکاح کر دیا جائے گا۔آج کل بھی تورات کے حکم سنگساری پر عمل نہیں ہوتا۔چونکہ مے نوشی اور بے پردگی کا یہودیوں اور عیسائی ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " تمام کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے سوائے ان کے جو خود اسرائیل : نے اپنے اوپر حرام کر لئے پیشتر اس کے کہ تورات اتاری جاتی۔تو کہہ دے کہ تورات لے آؤ اور اسے پڑھ کر دیکھ لو، اگر تم سچے ہو۔“