صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 138
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۳۸ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران يح : قُلْ يَاهْلَ الْكِتب تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ ، إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُم الا نعبد إلا الله : اس شريح إِلَّا آیت میں کلمہ سواء جو آیا ہے اس کے معنی قصدا ہیں۔یعنی عادلانہ بات جو دونوں کے در میان مشترکہ ہو۔یہ معنی ابو عبیدہ نے کئے ہیں۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۲۷۱، ۲۷۲) آیت میں دعوت توحید ہے اور دعا مباہلہ کی طرف اہل کتاب کو بلایا گیا ہے۔فرماتا ہے کہ عیسی سے متعلق یہی حق ہے جو بیان کر دیا گیا ہے۔وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہ تھے۔مثل دیگر انبیاء مقدس رسول تھے۔اگر اس حق کے بعد کوئی حجت بازی سے کام لے اور نہ مانے اور باطل عقیدہ پر مصر رہے تو ایک طریق فیصلہ باقی رہ جاتا ہے وہ عاجزانہ دعا ہے۔ابتهل إلى الله کے معنی ہیں تضرع اور زاری سے دعا کی۔چونکہ آیت میں ہے کہ ان الفاظ میں دعا کریں کہ جھوٹے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوں۔اس لئے مباہلہ کے معنوں میں لعنت کا مفہوم شامل ہے۔لعنه الله کے معنی ہیں اللہ نے اسے دور کیا۔جس قسم کی یہ محرومی ہوتی ہے اس کی وضاحت سابقہ باب ( نمبر (۳) میں مفصل مذکور ہے۔پوری آیت یہ ہے : فمن حَاجَكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ ابْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ انْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (آل عمران: ۲۲) بابه لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ إِلَى بِهِ عَلِيمٌ (آل عمران: ۹۳) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) تم ہر گز نیکی حاصل نہیں کر سکو گے تاوقتیکہ تم اس سے خرچ نہ کرو جو تمہیں پیاری ہے ٤٥٥٤ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۴۵۵۴ اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے۔مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيِّ بِالْمَدِينَةِ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ حضرت ابو طلحہ مدینہ کے نَحْلًا وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ سب انصاریوں سے زیادہ کھجوروں کے درخت ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : "پس جو تجھ سے اس بارے میں اس کے بعد بھی جھگڑا کرے کہ تیرے پاس علم آچکا ہے تو کہہ دے: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تمہارے بیٹوں کو بھی اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے نفوس کو اور تمہارے نفوس کو بھی۔پھر ہم مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔“