صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 139 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 139

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۳۹ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ رکھتے تھے اور ان کی جائیداد میں سے ان کو سب رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے زیادہ پیارا بیرحاء کا باغ تھا اور وہ مسجد کے يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَّاءٍ فِيهَا طَيِّبِ سامنے تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں جایا کرتے تھے اور اس کا عمدہ پانی پیتے۔جب یہ آیت نازل کی گئی : تم ہر گز نیکی حاصل نہیں کر سکو گے فَلَمَّا أُنْزِلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنَا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۳) قَامَ تا وقتیکہ تم اس سے خرچ نہ کرو جو تمہیں پیاری أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ہے۔حضرت ابو طلحہ کھڑے ہو گئے اور کہنے الله يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا لئے : یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم ہرگز نیکی مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ حاصل نہیں کر سکو گے تاوقتیکہ تم اس سے خرچ بَيْرُحَاءَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا نہ کرو جو تمہیں پیاری ہے اور میری جائیدادوں وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللهِ میں سے سب سے پیار امجھے بیرحاء ہے اور یہ باغ اللہ کے لئے صدقہ ہے۔میں اس کے ثواب کی حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ امید رکھتا ہوں اور یہ کہ اللہ کے پاس (میرے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَحْ ذَلِكَ مَالٌ لئے ) بطور ذخیرہ ہو گا۔اس لئے یا رسول اللہ ! رايحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَايِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ جہاں اللہ آپ کو مناسب سمجھائے وہاں صرف مَا قُلْتَ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واہ الْأَقْرَبِينَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ واہ یہ تو بڑا اچھا مال ہے یہ تو بڑا اچھا مال ہے اور يَا رَسُولَ اللهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ میں نے سن لیا ہے جو تم نے کہا ہے۔اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم اس کو رشتہ داروں میں فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ۔قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مناسب تقسیم کرو۔حضرت ابوطلحہ نے کہا: یا رسول اللہ ! بنُ يُوسُفَ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ذَلِكَ میں یہی کروں گا۔چنانچہ حضرت ابو طلحہ نے اس مَالْ رَابِحٌ۔مال کو اپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں کیا۔عبد اللہ بن یوسف اور روح بن عبادہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے کہ یہ تو فائدہ دینے والا مال ہے۔