صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 137
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۳۷ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَلَاهْلَ الْكِتٰبِ اگر تم پھر گئے تو یا د رکھور عایا کا وبال بھی تم پر پڑے گا اور تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلا تو کہ: اے اہل کتاب (کم سے کم ) ایک ایسی بات کی نَعْبُدَ إِلَّا اللهُ إِلَى قَوْلِهِ اشْهَدُوا بِأَنَا طرف تو آجاؤ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان برابر ہے (اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی مُسْلِمُونَ (آل عمران: ٦٥) فَلَمَّا فَرَغَ عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ نہ ہم اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنایا عِنْدَهُ وَكَثْرَ اللَّغَطُ وَأُمِرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا کریں۔ پھر اگر وہ پھر جائیں تو ان سے کہہ دو کہ تم گواہ قَالَ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا رہو کہ ہم (خدا کے) فرمانبردار ہیں۔ جب ہر قل اس خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ ہوئیں اور شور بہت ہوا اور ہمارے متعلق حکم دیا گیا اور بھی ڈرتا۔ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ ہم نکال دیئے گئے۔ ابو سفیان کہتے تھے : جب ہم نکلے مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابو کبشہ کے بیٹے کی تو وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ رهاک بیٹھ گئی ہے۔ اس سے تو آب بنو اصفر کا بادشاہ ڈرتا ہے۔ میں اس و میں اس وقت سے رسول رسول اللہ صلی اللوم کے الْإِسْلَامَ۔ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَدَعَا هِرَقْلُ سلسلے کی نسبت یقین کئے رہا کہ وہ ضرور غالب ہو گا۔ عُظَمَاءَ الرُّومِ فَجَمَعَهُمْ فِي دَارٍ لَهُ فَقَالَ یہاں تک کہ یہ دن آیا اللہ نے مجھ کو اسلام میں داخل يَا مَعْشَرَ الرُّومِ هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ کیا۔ زہری کہتے تھے : ہر قل نے رومیوں کے بڑے وَالرَّشَدِ آخِرَ الْأَبَدِ وَأَنْ يَثْبُتَ لَكُمْ بڑے سرداروں کو بلایا۔ ان کو اپنے ایک محل میں جمع کیا اور کہنے لگا: رومی لوگو! کیا تمہیں کامیابی اور سیدھے مُلْكُكُمْ قَالَ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرٍ راستے پر آخری زمانے تک رہنے کی خواہش ہے اور یہ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ کہ تمہاری بادشاہت قائم رہے۔ کہتے تھے: یہ سن کر وہ غُلِقَتْ فَقَالَ عَلَيَّ بِهِمْ فَدَعَا بِهِمْ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے مگر فَقَالَ إِنِّي إِنَّمَا اخْتَبَرْتُ شِدَّتَكُمْ انہوں نے ان کو بند پایا۔ ہر قل نے کہا: ان کو میرے پاس عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمُ الَّذِي لے آؤ۔ ان کو بلایا اور کہنے لگا میں نے تو صرف یہ آزمایا تم اپنے ، دین پر مضبوط بھی ہو۔ سو میں نے تم سے تھا کہ تم أَحْبَبْتُ فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ۔ یہ بات دیکھ لی ہے جو میں چاہتا تھا۔ یہ سن کر انہوں نے اس کے سامنے سجدہ کیا اور اس سے خوش ہو گئے۔ أطرافه ۷، ۵۱، ۲۶۸۱ ، ۲۸۰۴، ۲۹۴۱، ۲۹۷۸ ، ۳۱۷۴ ، ۵۹۸۰ ، ٦٢٦۰، ٧١٩٦، ٧٥٤١-