صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 136
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران فَقُلْتُ لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ رسولوں کا حال ہوتا ہے کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتے اور أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ انْتَمَّ بِقَوْلٍ میں نے تم سے پوچھا: کیا اس سے پہلے کسی نے یہ دعویٰ قِيلَ قَبْلَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ بِمَ يَأْمُرُكُمْ کیا؟ تم نے کہا نہیں۔ میں نے خیال کیا کہ اگر اس سے پہلے کوئی یہ دعویٰ کرتا تو میں سمجھتا ایک شخص ہے کہ جس قَالَ قُلْتُ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ نے ایسی بات کی تقلید کی ہے جو اس سے: پہلے بھی کہی وَالصَّلَةِ وَالْعَفَافِ قَالَ إِنْ يَكُ مَا گئی۔ ابو سفیان کہتے تھے : اس کے بعد اس نے پوچھا: تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ وَقَدْ كُنْتُ وہ کس بات کا تمہیں حکم دیتا ہے ؟ کہتے تھے ، میں نے أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَكُ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ کہا: وہ ہمیں نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے اور صلہ رحمی کرنے اور بدیوں سے بچنے کا حکم کرتا ہے۔ ہر قل کہنے وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لا: جو کچھ تم نے اس کے بارے میں کہا ہے اگر یہ سچ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ ہے تو یقینا وہ نبی ہے اور میں جانتا تھا کہ وہ آنے والا لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا ہے مگر میں یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا تَحْتَ قَدَمَيَّ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ اور اگر میں جانتا کہ میں اس کے پاس صحیح سالم پہنچ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جاؤں گا تو میں ضرور اس کی ملاقات پسند کرتا اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھوتا اور فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: ضرور ضرور اس کی بادشاہت اس زمین تک پہنچ جائے گی جو میرے پاؤں کے نیچے ہے۔ ابو سفیان الله کہتے تھے : پھر اس نے رسول اللہ صلی الہ وسلم کا خط منگوایا اور اس کو پڑھا تو اس میں یہ مضمون تھا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى هِرَقْلَ (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ ( پڑھتا ہوں) عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ محمد کی طرف سے جو اللہ کا رسول ہے، ہر قل کی طرف جو رومیوں کا سردار ہے۔ جس نے ہدایت ( صحیح راستے) الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ کی پیروی کی، اس پر سلامتی ہو۔ اما بعد میں تم کو اسلام الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ كى دعوت ) وت دیتا ہوں۔ اسلام ؟ اسلام قبول کر لو سلامتی میں رہو اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ گے اور اسلام قبول کرو، اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا۔