صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 135
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۳۵ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ اگر اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ ہو ا ہو وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضْعَفَاؤُهُمْ تو میں سمجھتا کہ ایک ایسا شخص ہے جو اپنے باپ دادوں کی بادشاہت کا خواہاں ہے اور میں نے تم سے اس أَمْ أَشْرَافُهُمْ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ کے پیرؤوں کی بابت پوچھا تھا: کیا وہ لوگوں میں سے وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنتُمْ کمزور ہیں یا ان میں سے بڑے بڑے لوگ ؟ تو تم نے تَتَهمُونَهُ بِالْكَذِب قَبْلَ أَنْ يَقُولَ کہا: نہیں، ان میں سے کمزور اور یہی لوگ رسولوں مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لَّا فَعَرَفْتُ کے پیرو ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا: کیا جو أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَی اس نے دعویٰ کیا ہے اس دعوی کرنے سے پہلے تم النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ اس کو جھوٹ سے متہم کرتے تھے ؟ تم نے کہا: نہیں۔میں اس سے سمجھ گیا کہ وہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں پر وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ تو جھوٹ ترک کرے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخَطَةً اور میں نے تم سے پوچھا: کیا ان میں سے کوئی اپنے لَّهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَّا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ دین سے اس میں داخل ہونے کے بعد اس دین سے إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ وَسَأَلْتُكَ نفرت کرنے کی وجہ سے مرتد بھی ہوتا ہے؟ تم نے هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ کہا: نہیں، اور ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے جب وہ دلوں کی بشاشت میں سا جاتا ہے اور میں نے تم سے أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى پوچھا تھا: کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو تم يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ فَزَعَمْتَ نے کہا: بڑھ رہے ہیں اور ایمان کا یہی حال ہوتا ہے۔أَنَّكُمْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَكُونُ الْحَرْبُ یہاں تک کہ وہ کمال کو پہنچ جائے اور میں نے تم سے بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ پوچھا تھا: کیا تم نے کبھی اس سے لڑائی بھی کی؟ تم نے وَتَنَالُونَ مِنْهُ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى کہا کہ ہم نے اس سے جنگ کی اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح ہے۔کبھی وہ تم سے ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ نقصان اُٹھاتا ہے اور کبھی تم اس سے نقصان اٹھاتے يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ وَكَذَلِكَ ہو اور رسولوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے مگر آخر الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ انجام انہی کا ہوتا ہے اور پھر میں نے تم سے پوچھا: أَحَدٌ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَّا کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے ؟ تم نے کہا: نہیں۔اسی طرح