صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 132
۱۳۲ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران صحيح البخاری جلد ۱۰ سے ویسی ہی بیان کی گئی ہے۔یعنی تزکیہ نفس، نظر شفقت اور اللہ تعالی کی ہم کلامی سے محرومی، ہر خیر و برکت سے تہی دستی اور اللہ تعالیٰ کے قرب سے دوری۔جس کی وجہ سے ایسا راندہ درگاہ انسان دردناک سزا میں مبتلا ہو گا جبکہ وہ دیکھے گا کہ مقربین کا گروہ نعماء جنت سے محظوظ ہو رہا ہے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ اعمال میں اصل مقصود تقویٰ اور خالق کی رضا جوئی ہونی چاہیئے۔روایت نمبر ۴۵۵۲ میں فقرہ بَيْتٍ أَو في الحجرة جو آیا ہے، اس کے متعلق بعض کا خیال ہے کہ ” و “ دراصل ”و“ ہے۔امام ابن حجر نے اس کی یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ یہاں عطف الخاص علی العام کی صورت ہے۔گھر عام ہے اور کو ٹھڑی اس کا حصہ ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۶۹) بَاب ٤ : قُلْ يَاهْلَ الْكِتَب تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اللَّا نَعْبُدَ إِلا الله (ال عمران: ٦٥) اے اہل کتاب! آؤ اس بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں سَوَاءٍ قَصْدِ۔وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ سَوَاء کے معنی ہیں عادلانہ۔٤٥٥٣: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ :۴۵۵۳: ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔انہوں مُوسَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ مَعْمَرٍ حٍ۔نے ہشام بن یوسف) سے، ہشام نے معمر سے روایت کی۔اور عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا۔معمر نے حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔انہوں نے الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ کہا: عبيد الله بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا، کہا: بنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي حضرت ابن عباس نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ ابوسفیان نے مجھ سے بالمشافہ بات کی ، کہا: میں اس میعادی صلح کے دوران جو میرے اور رسول اللہ عن مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ قَالَ انْطَلَقْتُ في صلى الم کے درمیان تھی چلا گیا، کہا: اس اثنا میں کہ الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ میں شام میں تھا، نبی صلی ا نام کا ایک خط ہر قل کے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس لایا گیا، کہا: اور دحیہ کلبی وہ خط لائے اور انہوں