صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 131 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 131

صحیح البخاری جلد ۱۰ الا ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے اس کو نصیحت کی اور اس نے اقرار کر لیا الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ۔ أطرافه: ٢٥١٤ ، ٢٦٦٨ - علیہ وسلم حضرت ابن عباس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا: قسم مد عاعلیہ پر ہوتی ہے۔ تشريح : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا : عنوان باب میں جس لله آیت کا حوالہ دیا گیا ہے یہ ہے : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔ (آل عمران: ۷۸) یعنی جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک ٹھہرائے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب (مقدر) ہے۔ لا خَلَاقَ کے معنی لَا نَصِيْبَ مِنْ خَيْرٍ بھلائی سے ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ بلکہ دردناک سزا ملے گی۔ أَلِيمٌ فَعِیل کا وزن ہے ، جو بعض وقت اسم فاعل کے معنوں میں آتا ہے۔ اکیم کے معنی مؤلم درد ناک۔ خلاق اور الیم کے یہ معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔ انہوں نے ذوالرمہ کے اس مصرعہ کا حوالہ دیا ہے : يَصُدُّ وُجُوهَهَا وَهَبْ أَلِيمٌ یعنی ان کے چہروں کو تکلیف دہ گرمی پہنچتی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۹) آیات کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ یہودیوں کے فساد اطلاق کے ذکر میں مذکورہ بالا آیت سے بتایا گیا ہے کہ ان میں سے بعض تو متقی اور صالح ہیں ۔ لیکن ان میں سے ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ امیوں کا مال کھانا جائز ہے، جس طریق سے ممکن ہو ، یہودیوں سے جو اہل کتاب اور برگزیدہ قوم ہے کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔ روایات زیر باب سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تطبیق مسلمانوں پر فرمائی۔ جب ایک فریق نے ناحق کسی کا مال لینا چاہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت طلب کی اور فرمایا: اگر شہادت نہیں تو مد عاعلیہ کو قسم دی جائے گی۔ آيت إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ ثَمَنًا قَلِیلا کے تعلق میں روایت نمبر ۴۵۵۱ بھی نقل کی گئی ہے کہ ایک تاجر نے اپنی پونجی کے نکاس کی غرض سے جھوٹی قسم کھائی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ روایت ۴۵۵۲ میں ایک اور واقعہ نقل کر کے بتایا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس تعلق میں یہی آیت پڑھی۔ مذکورہ بالا روایات سے ظاہر ہے کہ نزول سے مراد تطبیق آیت ہے جو اس سے قبل متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے۔ ثمنًا قَلِيلًا ( تھوڑے مول) سے مراد دنیا کا عارضی فائدہ ہے جو زوال پذیر ہوتا ہے اور جو سزا بیان کی گئی ہے وہ نہایت سخت ہے اور آیت سے پایا جاتا ہے کہ اسلامی تعلیم کی اصل بنیاد اس رابطہ پر ہے جو انسان اور اس کے خالق کے درمیان ہے اور وہ رابطہ عبودیت ہے۔ جو اس رابطے کو توڑتا ہے اور دنیا کے مفاد سے متعلق اپنی خواہش نفس کو مقدم کرتا ہے اس کی سزا بھی اس جرم کی نوعیت کے اعتبار ا (مجاز القرآن لابي عبيدة ، سورة البقرة آيت وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، جزء عَذَابٌ أَلِيمٌ ، جزء اول صفحه (۳۲)