صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 127
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۲۷ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران تشريح : وَإِني أَعِيدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ : عنوان باب حضرت مریم علیہا السلام کے لئے کی جانے والی دعا سے قائم کیا گیا ہے اور روایت ۴۵۴۸ اس دعا کے تحت رکھ کر اس کے مفہوم کو حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہما السلام سے مخصوص رکھا گیا ہے۔روایت سے ظاہر ہے کہ آیت محولہ بالا سے استدلال حضرت ابو ہریرہ کا اپنا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں اور علامہ زمخشری مؤلف کشاف نے حضرت ابو ہریرہ کی اس روایت کو قرآن مجید کے محکمات اور مستند احادیث کے واضح بیانات کے خلاف قرار دیا ہے۔قرآن مجید نے اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (الحجر: ۴۱) کہہ کر اللہ کے تمام مخلص بندوں کو شیطانی تصرف سے آزاد قرار دیا ہے اور اس مفہوم کی متعدد آیات قرآن میں آئی ہیں اور حدیث میں آتا ہے کہ بوقت مباشرت جو حص اللهُم جَنْبَنِي الشَّيْطَانَ وَجَنْبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا کی شخص دعا کرے گا۔یعنی اے اللہ ! مجھے شیطان سے الگ رکھیو اور شیطان کو اس سے الگ رکھیو جو تو نے ہمیں عطا کرنے کا ارادہ فرمایا ہے، تو ان کا پیدا ہونے والا بچہ مس شیطان سے محفوظ رکھا جائے گا۔(الصحیح البخاری، کتاب النکاح، باب ۶۷ روایت نمبر ۵۱۶۵) اس لئے علامہ زمخشری کو اس روایت کی صحت قبول کرنے میں تردد ہے اور امام فخر الدین رازی نے اس روایت کو خبر واحد پر محمول کر کے بہت سے اعتراض کئے ہیں اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی شیطان سے محفوظ رہنے کی خصوصیت نہیں۔پر وہ شخص جو مریمی یا عیسوی صفت ہے میں شیطان سے محفوظ کیا جاتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۷) امام بخاری نے روایت کو آلِ عمران کی خاتون اتم مریم کے الفاظ وَائِي سَيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِلَى أَعِيْدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا (آل عمران: ۳۷) کے تابع رکھا ہے جس میں اپنے بچے کے شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا کا ذکر ہے۔متی باب پڑھ کر دیکھئے کہ حضرت مسیح کی تعلیم کیسی پاکیزہ اور مس شیطان سے خالی ہے۔آپ کی زندگی بھی ایسی پاک تھی جیسی آپ کی تعلیم۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمام انبیاء اور صلحاء مش شیطان سے پاک ہوتے ہیں۔حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔ان کی صراحت اس واسطے کی ہے کہ ان پر ایسے ایسے اعتراض ہوئے اور کسی نبی پر چونکہ اعتراض نہیں ہوئے اس لئے ان کے لئے صراحت کی ضرورت بھی نہ پڑی۔دوسرے نبیوں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ ہوتے تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خود اہل مکہ تسلیم کر چکے ہوئے تھے کہ وہ مس شیطان سے پاک ہیں۔تب ہی تو ک ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور (اس عمران کی عورت نے کہا) یقیناً میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے، اور میں اسے اور اس کی نسل کو راندہ درگاہ شیطان سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“